مرکزی خبر پر جائیں

پنجاب حکومت کا گرین الیکٹرک بس سروس چلانے کا اعلان

ایک نظر میں

  • پنجاب حکومت نے گرین الیکٹرک بسوں پر مشتمل پبلک ٹرانسپورٹ کے ایک نئے منصوبے کی نقاب کشائی کی ہے، جسے صوبے کے لیے 'بڑا ٹرانسپورٹ انقلاب' قرار دیا جا رہا ہے۔اس کا اعلان حکومتی نمائندہ عظمیٰ بخاری نے کیا۔
  • 6 جولائی کو دستیاب اطلاعات کے مطابق، پنجاب میں الیکٹرک بس سروس کو پہلی بار صوبے کے دیہی علاقوں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
  • اطلاعات کے مطابق یہ اقدام مریم نواز کی زیر قیادت حکومت کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد جدید سفری سہولیات کو بڑے شہروں سے آگے بڑھانا ہے۔
اب تک کی صورتحال: پنجاب حکومت نے گرین الیکٹرک بسوں پر مشتمل پبلک ٹرانسپورٹ کے ایک نئے منصوبے کی نقاب کشائی کی ہے، جسے صوبے کے لیے 'بڑا ٹرانسپورٹ انقلاب' قرار دیا جا رہا ہے۔اس کا اعلان حکومتی نمائندہ عظمیٰ بخاری نے کیا۔ 6 جولائی کو دستیاب اطلاعات کے مطابق، پنجاب میں الیکٹرک بس سروس کو پہلی بار صوبے کے دیہی علاقوں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

مرکزی خبر

پنجاب حکومت نے گرین الیکٹرک بسوں پر مشتمل پبلک ٹرانسپورٹ کے ایک نئے منصوبے کی نقاب کشائی کی ہے، جسے صوبے کے لیے ‘بڑا ٹرانسپورٹ انقلاب’ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کا اعلان حکومتی نمائندہ عظمیٰ بخاری نے کیا۔


تازہ ترین اپڈیٹس

6 جولائی کو دستیاب اطلاعات کے مطابق، پنجاب میں الیکٹرک بس سروس کو پہلی بار صوبے کے دیہی علاقوں تک توسیع دی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اقدام مریم نواز کی زیر قیادت حکومت کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد جدید سفری سہولیات کو بڑے شہروں سے آگے بڑھانا ہے۔


The electric bus service in Punjab is set to expand into rural areas of the province for the first time, according to available reports on July 6. The initiative is reportedly part of the government’s plan under Maryam Nawaz to extend modern transport facilities beyond major cities.

6 جولائی کی اطلاعات کے مطابق، پنجاب میں الیکٹرک بس سروس نے صوبے کے مزید شہروں میں اپنے آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے۔


تازہ ترین دستیاب معلومات کے مطابق، پنجاب حکومت کے الیکٹرک بس منصوبے کو صوبے کے مزید شہروں تک توسیع دی جائے گی۔ یہ پیش رفت حکومت کی وسیع تر گرین پبلک ٹرانسپورٹ حکمت عملی کا حصہ ہے۔


پنجاب حکومت نے اپنی گرین موبلٹی حکمت عملی کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی ہیں، جس کا مقصد شہری آبادی میں اضافے اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنا ہے۔ اس منصوبے میں الیکٹرک بسوں، ٹیکسیوں، موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی توسیع شامل ہے تاکہ درآمدی فوسل فیول پر انحصار کم کیا جا سکے اور ہوا کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔

اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ پنجاب کے پہلے الیکٹرک بس مینوفیکچرنگ اور اسمبلی پلانٹ کا قیام ہے، جس نے پہلے ہی کام شروع کر دیا ہے۔ اس مقامی پیداوار کا مقصد لاگت کو کم کرنا، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینا اور ہنرمند ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اگلے پانچ سالوں میں 5,000 الیکٹرک بسیں چلانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں گوجرانوالہ، راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد سمیت نو ڈویژنوں کی 91 تحصیلوں میں 1,500 بسیں چلائی جائیں گی۔

رول آؤٹ پلان کے مطابق، 10 جولائی تک 28 اضلاع میں 61 الیکٹرک بسوں کی سروس شروع ہونے والی ہے۔ مزید 189 بسیں سافٹ لانچ کے لیے تیار ہیں، جبکہ 112 بسیں گوجرانوالہ، ملتان اور مری جیسے شہروں میں پہنچ چکی ہیں۔


پنجاب حکومت اپنی الیکٹرک بس سروس کو توسیع دے رہی ہے، اس اقدام کو صوبے بھر کے مسافروں کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔


پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے مطابق، اس وقت صوبے کے مختلف اضلاع میں 1,100 گرین الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں۔ وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عوام کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر اس سروس کو پنجاب کی 147 تحصیلوں تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔


حکومتی نمائندہ عظمٰی بخاری کے مطابق، عوامی طلب میں اضافے کے باعث پنجاب حکومت الیکٹرک بس سروس کو صوبے بھر کی 147 تحصیلوں تک توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔


حکومتی نمائندہ عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ گرین الیکٹرک بس منصوبے نے پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ میں “انقلاب” برپا کر دیا ہے۔


ذرائع اور اپڈیٹس

[activity-stream-raw include=”86744,86834,84169,84199,84238,84303,84540,84790,85212,85659,85883,86401,86441,86556″ per_page=20 display_comments=0 sort=DESC]

Responses

>