مرکزی خبر پر جائیں

پنجاب حکومت کا تمام سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی آفیسرز تعینات کرنے کا فیصلہ

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: پنجاب حکومت کا تمام سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی آفیسرز تعینات کرنے کا فیصلہ
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پنجاب حکومت تمام سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی آفیسرز تعینات کرے گی۔
  • یہ فیصلہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں مہلک آتشزدگی کے بعد کیا گیا ہے۔
  • ملک گیر فائر سیفٹی آڈٹس میں پاکستان بھر کے ہسپتالوں میں حفاظتی खामیاں سامنے آ رہی ہیں۔

اب تک کی صورتحال

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں مہلک آتشزدگی کے بعد، پاکستان بھر میں عوامی سہولیات میں فائر سیفٹی کے اقدامات کی جانچ پڑتال تیز ہو گئی ہے۔ سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں نے ہسپتالوں اور دیگر عوامی عمارتوں کے ہنگامی فائر سیفٹی آڈٹ شروع کر دیے ہیں۔ ابتدائی جائزوں میں پہلے ہی اہم خامیوں کا انکشاف ہونا شروع ہو گیا ہے، ملتان، لاہور، فیصل آباد، کراچی، حیدرآباد اور خیبر پختونخوا بھر کے ہسپتالوں میں نامکمل فائر فائٹنگ سہولیات اور حفاظتی خلاء کی اطلاع دی گئی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مخصوص فائر سیفٹی آفیسرز تعینات کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ صوبے بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مخصوص فائر سیفٹی آفیسرز تعینات کرے گی۔ یہ اقدام اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں حالیہ مہلک آتشزدگی کے بعد صحت کی سہولیات میں حفاظتی اقدامات کو بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔

لاہور میں، شہری انتظامیہ نے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں فائر ہائیڈرنٹس کے فوری اور جامع سروے کا حکم دیا ہے۔ یہ ہدایت لاہور ڈویژن کے کمشنر نعمان یوسف نے جمعرات کو میو ہسپتال اور چلڈرن ہسپتال کے دورے کے دوران جاری کی۔

ڈپٹی کمشنر کیپٹن علی اعجاز (ر) اور ریسکیو 1122، واسا اور سول ڈیفنس کے حکام کے ہمراہ، کمشنر نے ریسکیو 1122 کو سروے مکمل کرنے اور اسی دن مکمل رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے حفاظتی خامیوں پر زیرو ٹالرنس کے نقطہ نظر پر زور دیا اور تمام متعلقہ محکموں کو حفاظتی آلات کی تنصیب، لیسکو کے ساتھ الیکٹریکل آڈٹ کرنے، آگ بجھانے والے آلات کی فعالیت کی تصدیق کرنے اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے بلا تعطل رسائی کے راستے یقینی بنانے کے لیے رابطہ کاری کی ہدایت کی۔

مزید اطلاعات کے مطابق، کئی دیگر بڑے شہروں اور صوبوں کے ہسپتالوں کو بھی فائر سیفٹی کے حوالے سے جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فیصل آباد، کراچی، حیدرآباد اور خیبرپختونخوا بھر میں صحت کی سہولیات میں خطرناک حفاظتی خامیاں اور ناکامیاں پائی گئی ہیں۔

سندھ حکومت نے فائر سیفٹی سے متعلق اپنی ہدایات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے صوبے بھر کے نجی اسکولوں کو بھی سیفٹی آڈٹ اور ڈرلز کرانے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے لیے پہلے سے جاری کردہ ہدایت کے علاوہ ہے۔

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے جمعرات کو صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں میں ہنگامی فائر سیفٹی آڈٹ کروانے کا حکم دے دیا۔ اعلامیے کے مطابق، اسپتال انتظامیہ کو فوری آڈٹ اور عملی مشقیں کرنے اور نتائج، خامیوں اور اصلاحی اقدامات پر تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیشن نے سول ڈیفنس اور فائر بریگیڈ سے منظوریوں کا ازسرنو جائزہ لینے اور ہنگامی راستوں کو ہر وقت رکاوٹوں سے پاک رکھنے کی بھی ہدایت کی۔

دوسری جانب، ملتان کے نشتر اسپتال کی انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے ہاں آگ بجھانے کی سہولتیں نامکمل ہیں۔ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راؤ امجد نے بتایا کہ اگرچہ 300 فائر ایکسٹنگوئشر فعال ہیں، لیکن وارڈز میں اسموک ڈیٹیکٹر موجود نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسموک ڈیٹیکٹر لگانے کا کام جاری ہے اور مزید آلات خریدے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد کے پمز اسپتال میں مہلک آتشزدگی کے بعد اب پاکستان بھر کے اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ اقدام پنجاب اور سندھ حکومتوں کی جانب سے پہلے سے جاری کردہ ہدایات کی توسیع ہے، جنہوں نے اپنے اپنے صوبوں میں سیفٹی آڈٹ اور بہتر اقدامات کا حکم دیا تھا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>