مرکزی خبر پر جائیں

پمز آگ انکوائری میں ‘سنگین کوتاہیاں’ سامنے، ملک گیر حفاظتی جائزے شروع

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: پمز آگ انکوائری میں ‘سنگین کوتاہیاں’ سامنے، ملک گیر حفاظتی جائزے شروع
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • انکوائری میں پمز میں فائر سیفٹی کے حوالے سے 'سنگین کوتاہیاں' پائی گئیں۔
  • 26 اگست کو ہسپتال کے نوزائیدہ یونٹ میں لگنے والی آگ سے 14 بچے جاں بحق ہوئے۔
  • پنجاب اور سندھ کے حکام نے ہسپتالوں کے لیے نئے حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

26 اگست کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نوزائیدہ یونٹ میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔ ابتدائی انکوائری میں 'سنگین انتظامی اور آپریشنل غفلت' پائی گئی، جس کے بعد آٹھ سینئر اہلکاروں کو معطل کر کے فوجداری کارروائی کا حکم دیا گیا۔ حکومت نے ہر متاثرہ خاندان کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ بعد ازاں ایک انکوائری رپورٹ میں ہسپتال کی فائر سیفٹی میں 'سنگین کوتاہیوں' کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد ملک بھر میں حفاظتی جائزوں کا آغاز ہوا۔

تازہ ترین پیش رفت

پمز آگ کی انکوائری رپورٹ میں ہسپتال کی فائر سیفٹی میں 'سنگین کوتاہیاں' پائی گئی ہیں اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جولائی میں لگنے والی پچھلی آگ کے بعد اصلاحی اقدامات پر مناسب عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔ ان نتائج کے بعد اسلام آباد، پنجاب اور سندھ کے ہسپتالوں میں وسیع تر حفاظتی جائزے اور نئے اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔

تازہ ترین اپڈیٹس

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں لگنے والی مہلک آگ کی انکوائری میں ہسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات میں 'سنگین کوتاہیاں' پائی گئی ہیں۔ نئی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ 26 اگست کو لگنے والی آگ کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا، لیکن جولائی میں ہسپتال میں لگنے والی پچھلی آگ کے بعد اصلاحی اقدامات پر مناسب طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے بعد، اسلام آباد انتظامیہ نے فائر سیفٹی کی خلاف ورزی پر عمارتوں کو سیل کرنا اور دیگر ہسپتالوں پر جرمانے عائد کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس ردعمل کا دائرہ دیگر صوبوں تک پھیل گیا ہے، پنجاب حکومت نے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں ریسکیو 1122 یونٹس تعینات کرنے اور نوزائیدہ یونٹس کے لیے نئے ایس او پیز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سندھ میں، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صوبائی چیپٹر کی جانب سے انتباہ کے بعد حکومت نے 3,300 سے زائد عمارتوں کی سیفٹی آڈٹ کے لیے نشاندہی کی ہے۔

راولپنڈی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈویژن کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں فائر ہائیڈرنٹس موجود نہیں ہیں۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کی کمیٹیوں نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں لگنے والی مہلک آگ پر تبادلہ خیال کے لیے ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا ہے، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔

یہ پارلیمانی اجلاس 26 اگست کے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جسے انتظامی اور آپریشنل غفلت قرار دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے مہلک واقعے کے بعد استعفیٰ دینے کی پیشکش کی، لیکن ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا۔ اس بات کا انکشاف مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کیا۔

رپورٹس کے مطابق 31 اگست کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ تعیناتی ہسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے یونٹ میں لگنے والی مہلک آگ کی متعدد تحقیقات کے دوران ہوئی ہے، جس میں 14 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔

پمز ہسپتال میں مہلک آتشزدگی کی تحقیقات میں 31 اگست کو ایک نیا موڑ آیا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت شروع کی۔ یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب سینیٹ کی کمیٹی نے اپنی تحقیقات جاری رکھیں، جس کے اراکین نے اس بات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ آٹھ افسران کو معطل تو کیا گیا ہے لیکن ابھی تک کسی کو حتمی سزا نہیں ملی۔ علیحدہ طور پر، پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے ذمہ داروں کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والی ایک پارلیمانی کمیٹی نے ہسپتال کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ای ڈی) پر واقعے سے متعلق ریکارڈ غائب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ انکشاف پیر، 31 اگست کو پمز میں ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کی پارلیمانی کمیٹیوں نے پمز ہسپتال میں ہونے والی مہلک آتشزدگی کی سرکاری تحقیقات پر سوالات اٹھائے ہیں، جس میں نامکمل سی سی ٹی وی فوٹیج اور واقعے کے وقت نرسری میں موجود بچوں کی تعداد پر تضادات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس کے دوران چیئرمین مہیش کمار ملانی نے تحقیقاتی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نرسری کے اندر کی اہم فوٹیج غائب ہے اور اسے پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (IHRA) کے چیئرمین ڈاکٹر ریاض شہباز جنجوعہ کے استعفے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اپنے استعفیٰ میں ڈاکٹر جنجوعہ نے کہا کہ حالات نے اتھارٹی کی خود مختاری کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے اپنی ذمہ داریاں آزادانہ اور مؤثر طریقے سے انجام دینا ناممکن ہو گیا ہے۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد، حکومت نے 31 اگست کو پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور اسلام آباد میں سرکاری ہاسٹلز کے جامع فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم دیا ہے۔

دریں اثنا، مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری نے بھی اس سانحے پر ایک بیان جاری کیا ہے۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹیوں نے 31 اگست کو پمز ہسپتال آتشزدگی کے واقعے کی ابتدائی انکوائری رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ایک اہم اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے مبینہ طور پر کہا کہ ہسپتال کا نظام ”مکمل طور پر تباہ“ ہو چکا ہے۔

کمیٹیوں نے رپورٹ کے نتائج پر سوالات اٹھائے، جس کی بنیاد پر متعدد افسران کو معطل کیا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بھی اس سانحے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر رہی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 31 اگست کو پمز نرسری آتشزدگی کے سانحے پر تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب سینیٹ اور قومی اسمبلی کی کمیٹیوں نے 14 نومولود بچوں کی اموات کا باعث بننے والے واقعے پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔

31 اگست کو ایک نئی پیشرفت میں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے، جس میں مبینہ طور پر پمز نرسری میں لگی آگ کو دکھایا گیا تھا۔

کمیٹی نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس من گھڑت ویڈیو کو بنانے اور پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Dawn News

A reckoning

LAST week’s horrific fire tragedy at the Pims’ nursery has elicited a flurry of responses from the state. Inquiries have been launched, officials have faced the axe , and pledges have been made to rectify the glaring lacunae that led to the heart-wre

Dawn News

NA, Senate committees question probe into deadly Pims fire

ISLAMABAD: Standing committees of both houses of parliament on Monday questioned the probe into the Pakistan Institute of Medical Sciences (Pims) fire that killed 14 infants , raising concerns over incomplete CCTV footage and the disputed number of i

GNN
GNN
GNN
GNN

Responses

>