مرکزی خبر پر جائیں

پمز آتشزدگی: ابتدائی رپورٹ میں عملے کی غفلت اور سنگین حفاظتی ناکامیاں ثابت

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: پمز آتشزدگی: ابتدائی رپورٹ میں عملے کی غفلت اور سنگین حفاظتی ناکامیاں ثابت
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • ابتدائی رپورٹ میں پمز آتشزدگی میں عملے کی غفلت پائی گئی جس میں 14 بچے جاں بحق ہوئے۔
  • نشاندہی کی گئی ناکامیوں میں مقفل دروازے، تکنیکی عملے کی عدم موجودگی، اور ناکافی آلات شامل ہیں۔
  • جوڈیشل انکوائری کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

اب تک کی صورتحال

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ہولناک آتشزدگی سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، جس پر وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دیا۔ ایک ابتدائی رپورٹ میں اب ہسپتال کے عملے اور افسران کی غفلت کی تصدیق ہوگئی ہے، جس میں مقفل دروازوں اور آگ بجھانے کے ناکافی آلات جیسی بڑی حفاظتی ناکامیوں کا ذکر ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہسپتال بغیر کسی درست فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ کے چل رہا تھا۔ حکومت نے ہر متاثرہ خاندان کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے، جبکہ جوڈیشل انکوائری اور وزیر صحت کے استعفے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں پمز ہسپتال کے افسران اور عملے کو 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کا باعث بننے والی آتشزدگی میں غفلت کا مرتکب پایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو ٹیموں کو مقفل دروازوں اور ناکافی آلات کا سامنا کرنا پڑا، اور عملہ ہنگامی حالات کے لیے غیر تربیت یافتہ تھا۔

تازہ ترین اپڈیٹس

وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے افسران اور عملے کو 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کا باعث بننے والی ہولناک آتشزدگی میں غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ 30 سے زائد انٹرویوز پر مبنی ابتدائی نتائج میں اہم حفاظتی ناکامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ریسکیو ٹیموں کو بڑی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں مقفل دروازے، موقع پر تکنیکی عملے کی عدم موجودگی، اور آگ بجھانے کے ناکافی آلات شامل تھے، جس کی وجہ سے انہیں نرسری میں داخل ہونے کے لیے دیواریں توڑنی پڑیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہسپتال کا عملہ ایسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیر تربیت یافتہ تھا۔

کمیٹی، جسے ابتدائی تحقیقات کے لیے 48 گھنٹے دیے گئے تھے، توقع ہے کہ پانچ دنوں میں تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔ دیگر پیش رفت میں، سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ڈیوٹی پر موجود عملے کی معطلی اور وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثنا، پمز انتظامیہ نے اپنی داخلی انکوائری بھی شروع کر دی ہے۔

پمز ہسپتال آتشزدگی پر وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے تیار کی گئی عبوری رپورٹ 28 اگست کو مکمل ہو گئی ہے۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق رپورٹ میں بڑی ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ہسپتال میں حفاظتی اقدامات نامکمل تھے۔

یہ کمیٹی وزیراعظم شہباز شریف نے اس آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی تھی جس میں 14 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہوئے تھے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>