اسٹیٹ بینک رواں مالی سال 7 ارب ڈالر سے زائد کی خریداری کا خواہاں
ایک نظر میں
- پاکستان نے چین سے 1.3 ارب ڈالر کے تجارتی قرض کی ری فنانسنگ میں تیزی لانے کی درخواست کی ہے۔
- ملک نے جولائی 2026 میں 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کیے، جس میں چینی قرض بھی شامل تھا۔
- اسٹیٹ بینک کو رواں مالی سال انٹربینک مارکیٹ سے 7 ارب ڈالر سے زائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان نے چین سے 1.3 ارب ڈالر کے تجارتی قرض کی ری فنانسنگ جلد مکمل کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ یہ درخواست جولائی 2026 میں پاکستان کی جانب سے 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں یہی 1.3 ارب ڈالر کا چینی تجارتی قرض بھی شامل تھا۔ ری فنانسنگ کی شرائط کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستانی اور چینی حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے، اور توقع ہے کہ اگست 2026 میں یہ فنڈز موصول ہو جائیں گے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا مل سکے۔ اس ادائیگی سے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ داریاں 26.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔ حکومت قرض کی ادائیگی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے سعودی عرب اور چین سے 12 ارب ڈالر کی فنانسنگ کے رول اوور کی بھی کوشش کر رہی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران انٹربینک مارکیٹ سے 7 ارب ڈالر سے زائد کی خریداری کی توقع ہے تاکہ بیرونی ادائیگیوں میں سہولت ہو اور زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو سکیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
اسٹیٹ بینک آف پاکستان رواں مالی سال کے دوران انٹربینک مارکیٹ سے 7 ارب ڈالر سے زائد کی خریداری کی توقع رکھتا ہے۔ یہ فنڈز بیرونی ادائیگیوں میں سہولت فراہم کرنے اور ملک کے زرمبادلہ ذخائر کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوں گے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے چین سے باضابطہ طور پر 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ جلد از جلد مکمل کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ درخواست پاکستان کی جانب سے جولائی 2026 میں 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے بعد کی گئی ہے، جس میں مذکورہ 1.3 ارب ڈالر کا چینی کمرشل قرض بھی شامل تھا۔
اطلاعات کے مطابق پاکستانی اور چینی حکام کے درمیان ری فنانسنگ کی شرائط کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ توقع ہے کہ پاکستان کو یہ فنڈز اگست 2026 کے دوران موصول ہو جائیں گے، جس کا مقصد ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینا ہے۔
اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے حال ہی میں بتایا کہ جولائی میں 2.2 ارب ڈالر کی قرض کی ادائیگی سے رواں مالی سال کے لیے ملک کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ داریاں 26.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سال تقریباً 3.5 ارب ڈالر سود کی ادائیگیوں کی مد میں دیے جائیں گے۔
قرض کی ادائیگی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومت کی حکمت عملی میں سعودی عرب اور چین دونوں سے 12 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا رول اوور حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
پاکستان نے چین سے 1.3 ارب ڈالر کے قرض کی ری فنانسنگ کے عمل کی جلد تکمیل کی درخواست کی ہے۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
حکومت نے چین سے1.30ارب ڈالر کی ری فنانسنگ جلد مکمل کرنے کی درخوست کر دی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) حکومت نے چین کو ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی ری فنانسنگ کا عمل جلد مکمل کرنے کی باضابطہ درخواست کر دی۔
پاکستان کی چین سے 1.3 ارب ڈالر کی ری فنانسنگ جلد مکمل کرنے کی درخواست
پاکستان نے چین سے 1.3 ارب ڈالر کی ری فنانسنگ جلد مکمل کرنے کی باضابطہ درخواست کر دی۔
Responses