پاکستان اور امریکہ کا دہشت گرد گروہوں بشمول بی ایل اے کے خلاف عزم کا اعادہ
ایک نظر میں
- پاکستان اور امریکہ نے چوتھے انسداد دہشت گردی مذاکرات منعقد کیے۔
- دونوں ممالک نے دہشت گرد گروہوں سے لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
- ٹی ٹی پی، داعش خراسان، القاعدہ اور بی ایل اے پر خصوصی توجہ۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان اور امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ مذاکرات منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان کے عزم میں تحریک طالبان پاکستان، داعش خراسان اور القاعدہ جیسے گروہوں کا مشترکہ مقابلہ کرنا شامل ہے۔ بات چیت میں سرحدی سیکیورٹی کو بڑھانے اور دہشت گردی کی سہولت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کو ختم کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا جاتا ہے، جس کا مقصد علاقائی امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
4 اگست 2026 کو ہونے والے چوتھے پاک-امریکہ انسداد دہشت گردی مذاکرات کے دوران، دونوں ممالک نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو داعش خراسان، القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہدف بنائے گئے گروہوں کی فہرست میں شامل کیا۔
تازہ ترین اپڈیٹس
پاکستان اور امریکہ نے دہشت گرد تنظیموں بشمول داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ان کے ذیلی گروہوں کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ یہ اعادہ 4 اگست 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ چوتھے پاک-امریکہ انسداد دہشت گردی مذاکرات کے دوران ہوا۔ مذاکرات کی قیادت امریکی انسداد دہشت گردی کے کوآرڈینیٹر سفیر گریگوری لو جرفو اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے خصوصی سیکرٹری سفیر نبیل منیر نے کی۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
Pakistan, US reaffirm resolve to combat terrorist outfits
ISLAMABAD: Pakistan and the United States reaffirmed their joint resolve to combat terrorist organizations that threaten the security of their citizens and regional stability. The two countries pledged to strengthen cooperation against terrorist grou
Responses