مرکزی خبر پر جائیں

ماہرین کا پاکستان پر کشیدگی کے باوجود سندھ طاس معاہدے پر قائم رہنے پر زور

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ماہرین کا پاکستان پر کشیدگی کے باوجود سندھ طاس معاہدے پر قائم رہنے پر زور
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • واشنگٹن ڈائیلاگ میں ماہرین نے پاکستان پر کشیدگی کے باوجود سندھ طاس معاہدے پر عمل کرنے پر زور دیا ہے۔
  • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کو پانی کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی تو اس کے 'سنگین نتائج' ہوں گے۔
  • سابق سفیر منیر اکرم نے فعال سفارت کاری اور ایک بین الاقوامی میکانزم کی تلاش کی تجویز دی ہے۔

اب تک کی صورتحال

پاکستان نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے (IWT) کے تحفظ کے لیے بھارت کے ساتھ مذاکرات کی اپنی کال کی تجدید کی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کے خلاف خبردار کیا ہے، اور نئی دہلی کی جانب سے معاہدے کو 'معطل' کرنے پر غور کرنے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدام کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ پاکستانی حکام نے مسلسل IWT کو ایک قانونی طور پر پابند معاہدہ قرار دیا ہے جو علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

واشنگٹن میں ایک پالیسی ڈائیلاگ میں، ماہرین نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر عمل پیرا رہے، اور دلیل دی کہ سیاسی تنازعات کو معاہدے سے انحراف کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سابق سفیر منیر اکرم نے ایک فعال سفارتی حکمت عملی کا مطالبہ کیا اور ایک غیر جانبدار بین الاقوامی میکانزم، جس میں ممکنہ طور پر اقوام متحدہ اور چین شامل ہوں، کی تلاش کی تجویز دی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی آگے بڑھنے کے لیے تین اصول تجویز کیے، جن میں معاہدے کا مکمل نفاذ اور تکنیکی روابط کی بحالی شامل ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

واشنگٹن میں ایک پالیسی ڈائیلاگ میں، ماہرین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر عمل پیرا رہے اور بھارت کے ساتھ سیاسی یا سیکیورٹی تنازعات کو معاہدے سے انحراف کی وجہ نہ بننے دے۔ پاکستانی سفارت خانے کے زیر اہتمام ہونے والے اس ڈائیلاگ میں بھارت کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا گیا کہ معاہدہ معطل رہ سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر منیر اکرم نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو ایک فعال سفارتی حکمت عملی اپنانی چاہیے اور معاہدے کے میکانزم میں شرکت جاری رکھنی چاہیے، چاہے نئی دہلی انکار ہی کیوں نہ کرے۔ انہوں نے ایک غیر جانبدار بین الاقوامی میکانزم بنانے، جس میں ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کو شامل کیا جائے، اور اس معاملے پر چین سے مشاورت کی بھی تجویز دی۔

تقریب کے دوران، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آگے بڑھنے کے لیے تین اصول تجویز کیے: معاہدے کا مکمل احترام اور اس پر عمل درآمد، تمام تنازعات کو اس کے موجودہ میکانزم کے ذریعے حل کرنا، اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی روابط اور ڈیٹا شیئرنگ کی بحالی۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Dawn News

Political disputes must not affect Indus treaty: experts

• Participants urge Pakistan to continue adhering to accord • Munir Akram calls for active diplomacy, continued use of agreement mechanisms • Rizwan Saeed says treaty faces a ‘crisis of intent’ • Sherry says India can’t unilaterally suspend or reinte

Pakistan Observer

‘Profound consequences’

DEPUTY Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar on Friday warned that any attempt to deprive Pakistan of waters…

Nawai Waqt

سندھ طاس معاہدے پر بھارتی یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں.رضوان سعید شیخ

امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ 6 عشروں سے قائم سندھ طاس معاہدے پر عمل کرے کیونکہ بھارتی یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں،قانونی لحاظ سے سندھ طاس معاہدہ بد دستور، مؤثر ،نافذ العم

Responses

>