مرکزی خبر پر جائیں

پاکستان، سعودی عرب، ترکی دفاعی معاہدہ پر تبصرے جاری

پاکستان، سعودی عرب، ترکی دفاعی معاہدہ پر تبصرے جاری
0:000:00

ایک نظر میں

  • پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ایک سہ فریقی دفاعی معاہدہ پر دستخط کیے ہیں۔
  • معاہدے کے تحت ایک پر حملہ تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔
  • حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کوئی فرقہ وارانہ بلاک نہیں اور نہ ہی کسی مخصوص ملک کو نشانہ بناتا ہے۔

اب تک کی صورتحال

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ایک تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ، 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ' پر دستخط کیے ہیں، جس میں یہ اصول قائم کیا گیا ہے کہ دستخط کنندہ ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اس معاہدے پر وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، اور ترک صدر رجب طیب ایردوان نے دستخط کیے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، جسے حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی فرقہ وارانہ بلاک نہیں ہے، کسی مخصوص ملک کو نشانہ نہیں بناتا، اور اس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو ایک تاریخی دن قرار دیا ہے، اور عالمی رہنماؤں کی کوششوں کو سراہا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو ایک تاریخی دن قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کے قیام میں عالمی رہنماؤں کی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیر اعظم کا سعودی عرب کا دورہ، جس میں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے، اب اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

فواد چوہدری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے کے حوالے سے تفصیلات ظاہر کی ہیں، خاص طور پر اس بارے میں خدشات کو دور کیا ہے کہ آیا یہ معاہدہ ایران مخالف ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایک تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے دستخط کیے۔ اطلاعات کے مطابق دستخط کی تقریب سے قبل رہنماؤں نے ایک ساتھ نماز جمعہ ادا کی۔

ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے اس پر دستخط کو ایک اعزاز قرار دیا اور اس اجتماعی وژن کو حقیقت میں بدلنے کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے لیے خوشحالی میں اضافہ کرے گا اور تمام مسلم اقوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، اور اسے ایمان اور بھائی چارے پر مبنی اتحاد کی علامت قرار دیا۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

دستخط کرنے والے ممالک کے حکام نے معاہدے کے دائرہ کار پر وضاحت فراہم کی۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ اس معاہدے سے مملکت کے دیگر خلیجی یا عرب ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ ایک سعودی دفاعی اہلکار نے مزید کہا کہ اس معاہدے کا مقصد کوئی فرقہ وارانہ بلاک بنانا نہیں ہے اور نہ ہی اس کا تعلق جوہری عزائم یا ہتھیاروں کی دوڑ سے ہے۔ ترکیہ کے نمائندوں نے تصدیق کی کہ معاہدہ کسی خاص ملک کو نشانہ نہیں بناتا، جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ اس کا مقصد کسی بھی موجودہ خطرے کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان ہونے والے تاریخی دفاعی معاہدے پر بھارت نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ مزید برادر ممالک تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>