ٹرمپ شمالی کوریا کے کم جونگ ان سے جلد ملاقات کے لیے کوشاں
ایک نظر میں
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ جلد ملاقات کے لیے فعال طور پر کوشاں ہیں۔
- واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان سفارتی کوششیں کئی سالوں سے تعطل کا شکار ہیں۔
- دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری ملاقات جون 2019 میں پنمنجوم میں ہوئی تھی۔
اب تک کی صورتحال
واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان سفارتی کوششیں اس وقت سے بڑی حد تک تعطل کا شکار ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جوہری تخفیف کے کسی پائیدار معاہدے پر منتج نہیں ہو سکا تھا۔ ان کی آخری سرکاری ملاقات جون 2019 میں پنمنجوم میں ہوئی تھی۔ کسی معاہدے کی عدم موجودگی میں، شمالی کوریا نے اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کو آگے بڑھانا جاری رکھا ہے۔ حالیہ رپورٹس اب اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ صدر ٹرمپ کم جونگ ان کے ساتھ ایک اور ملاقات کا اہتمام کرنے کی فعال طور پر کوشش کر رہے ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت
19 اگست کی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ جلد ملاقات کے لیے فعال طور پر زور دے رہے ہیں، جو واشنگٹن کی جانب سے ایک نئی سفارتی کوشش کا اشارہ ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
19 اگست کی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ جلد ملاقات کے لیے فعال طور پر زور دے رہے ہیں۔ یہ واشنگٹن کی جانب سے پیانگ یانگ کی طرف ایک نئی سفارتی کوشش کا اشارہ ہے۔
منگل کو سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ تعلقات میں مبینہ ڈیڈ لاک کے بعد اپنی سفارتی توجہ شمالی کوریا کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔ یہ پیشرفت شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے جوہری ہتھیاروں پر تشویش کے درمیان سامنے آئی ہے۔
Responses