ٹرمپ کا ایران پر بنکر بسٹر بم استعمال کرنے کا ممکنہ اعلان
ایک نظر میں
- ٹرمپ نے 16 جولائی 2026 کو ایران پر بنکر بسٹر بم استعمال کرنے کے ممکنہ اعلان کیا۔
- یہ اعلان ایران کے خلاف امریکہ کے جاری فوجی حملوں اور بڑے حملوں کی سابقہ دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
- امریکہ نے بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ نافذ کر دی ہے، جبکہ ایران کے پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کا دعویٰ کیا ہے۔
اب تک کی صورتحال
16 جولائی 2026 کو، ٹرمپ نے ایران پر بنکر بسٹر بم استعمال کرنے کے ممکنہ اعلان کیا۔ یہ پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کے سلسلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل، 14 جولائی 2026 کو، ٹرمپ نے ایران پر ایک بڑے حملے کا اعلان کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ یہ اسی دن ہوگا۔
تازہ ترین پیش رفت
16 جولائی 2026 کو، ٹرمپ نے ایران پر بنکر بسٹر بم استعمال کرنے کے ممکنہ اعلان کیا۔
تازہ ترین اپڈیٹس
16 جولائی 2026 کو، ٹرمپ نے ایران پر بنکر بسٹر بم استعمال کرنے کے ممکنہ اعلان کیا۔
15 جولائی 2026 کو، ٹرمپ نے ایران کو نئی وارننگ جاری کی، جس میں ایک معاہدے کی ڈیڈ لائن پر سنگین نتائج کی دھمکی بھی شامل تھی۔ انہوں نے ایران کو ایک اور سخت دھمکی بھیجی۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران-امریکہ تنازع گہرا ہونے پر سخت ردعمل کا عزم کیا ہے، اور مبینہ طور پر ایک عمومی جنگ یا فوجی حملے کی مہم کا اعلان کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے کو دھچکا لگا ہے، اور جنگی صورتحال بدل رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 جولائی 2026 کو ایک بیان دیا ہے، جسے "دھماکہ خیز" قرار دیا گیا ہے اور اس نے عالمی ردعمل کو جنم دیا ہے۔ یہ بیان مبینہ طور پر ایران کے لیے نئی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف اس کی حملے کی کارروائیاں صبح 7 بجے تک مکمل ہونے والی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے 14 جولائی 2026 کو ایران کے خلاف حملوں کا ایک اضافی دور مکمل کیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز اور ایرانی ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں لڑاکا طیارے، ڈرون اور بحری جہاز شامل تھے، جنہوں نے ایرانی میزائل اور ڈرون سائٹس، بحری صلاحیتوں اور ساحلی دفاعی نظام کے خلاف درست نشانہ بنانے والے گولہ بارود استعمال کیا۔ اس کا مقصد تجارتی جہاز رانی اور شہری عملے کو دھمکانے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
اس کے ساتھ ہی، امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں سے آنے یا جانے والے جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کی، جو 14 جولائی 2026 کو شام 4 بجے مشرقی وقت کے مطابق نافذ ہوئی۔ جواب میں، ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) نے دعویٰ کیا کہ اس نے کویت کے مینا عبداللہ میں واقع مغربی ایشیا میں امریکی فوج کا مرکزی لاجسٹک اور سپورٹ سینٹر تباہ کر دیا ہے۔ IRGC نے کہا کہ جوابی کارروائیاں جاری ہیں اور آبنائے ہرمز امریکی جارحیت کے خاتمے تک بند رہے گی۔ IRGC نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر بحر ہند کے ذریعے تیل اور گیس کی برآمدی راستے بند کیے جاتے ہیں، تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کی خدمت کرنے والے دیگر تیل اور گیس برآمدی راستے بھی بند کیے جا سکتے ہیں، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ علاقائی تیل اور گیس کی برآمدات یا تو سب کے لیے دستیاب ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں۔ پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ "آپریشن نصر 2" کی پانچویں لہر کے دوران، امریکی پانچویں بحری بیڑے کا NSI مینجمنٹ سینٹر، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، بڑے گودام، اور بحرین میں بحری بیڑے کے ایندھن کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا اور تباہ کر دیا گیا۔ پریس ٹی وی نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ امریکہ نے جنوبی ایران میں کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جن میں حویضہ میں گندم کا گودام اور دہلوران میں ایک منرل واٹر فیکٹری شامل ہے۔ امریکی فوج نے مسلسل چوتھی رات فضائی حملے کیے ہیں، جس میں ایک بڑا حملہ کیا گیا جب CENTCOM نے ایران کے خلاف کارروائیوں کا ایک نیا مرحلہ مکمل کیا۔
15 جولائی 2026 کو امریکی فوج کی جانب سے ایران پر تباہ کن حملے کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
15 جولائی 2026 کو، ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے بجلی گھروں پر حملہ کرنے کی دھمکی دی۔ یہ دھمکی آبنائے ہرمز پر جاری تعطل کے درمیان سامنے آئی ہے۔
15 جولائی 2026 کو ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ انہیں کافی نہ کہیں۔ علیحدہ طور پر، ایرانی صدر پیزیچکیان کے ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل کو نوٹ کیا گیا ہے۔
14 جولائی 2026 کو ٹرمپ کے بڑے اعلان میں ایران کے جوہری ٹھکانوں پر حملہ کرنے کا ایک خفیہ منصوبہ شامل ہے۔ یہ پیشرفت ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے کہ امریکہ-ایران مفاہمت کی یادداشت (MOU) کو ختم سمجھا جا رہا ہے۔
14 جولائی 2026 کو، ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ معاہدے کی ماضی کی خلاف ورزیاں مزید برداشت نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت لا رہا ہے اور امریکی افواج کو فضائی حملے شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
Responses