مرکزی خبر پر جائیں

ایشیا کپ: پاکستان نے ہانگ کانگ کو 72 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ایشیا کپ: پاکستان نے ہانگ کانگ کو 72 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پاکستان نے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ میں ہانگ کانگ کو 72 رنز سے شکست دی۔
  • اسپنر نشرہ سندھو نے 7 رنز کے عوض 6 وکٹیں لے کر قومی ریکارڈ قائم کیا۔
  • پاکستان جمعہ، 11 ستمبر کو سیمی فائنل میں سری لنکا کا سامنا کرے گا۔

اب تک کی صورتحال

پاکستان نے ہانگ کانگ کے خلاف 72 رنز کی فیصلہ کن فتح کے بعد ویمنز ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں اپنی جگہ محفوظ کر لی ہے۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے 144 رنز کا ہدف دیا، جس میں شوال ذوالفقار 47 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہیں۔ جواب میں، ہانگ کانگ کی ٹیم 71 رنز پر ڈھیر ہوگئی، جس کی بڑی وجہ اسپنر نشرہ سندھو کی ریکارڈ ساز بولنگ تھی جنہوں نے صرف 7 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں۔ اس جیت کے بعد پاکستان کا سیمی فائنل میں مقابلہ جمعہ، 11 ستمبر کو سری لنکا سے ہوگا۔

تازہ ترین پیش رفت

اسپنر نشرہ سندھو نے 7 رنز کے عوض 6 وکٹیں لے کر نیا قومی ریکارڈ قائم کیا، جو عمائمہ سہیل کے سابقہ بہترین ریکارڈ سے بہتر ہے۔ اس کارکردگی نے پاکستان کو ہانگ کانگ کو 71 رنز پر آؤٹ کرکے 72 رنز سے فتح اور سری لنکا کے خلاف سیمی فائنل میں جگہ دلائی۔

تازہ ترین اپڈیٹس

میچ کی مزید تفصیلات کے مطابق، لیفٹ آرم اسپنر نشرہ سندھو کی 6 وکٹیں 7 رنز کے عوض ریکارڈ ساز کارکردگی نے عمائمہ سہیل کے 2022 میں سری لنکا کے خلاف 13 رنز کے عوض 5 وکٹوں کے سابقہ بہترین ریکارڈ کو توڑ دیا۔

پاکستان کا 143 رنز برائے 8 وکٹوں کا مجموعہ شوال ذوالفقار کے 35 گیندوں پر 47، عائشہ ظفر کے 19 گیندوں پر 26 اور کپتان فاطمہ ثنا کے ناقابل شکست 24 رنز کی بدولت ممکن ہوا۔ ہانگ کانگ کی جانب سے جوائلین کور 19 رنز کے عوض 4 وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بولر رہیں، جبکہ اقرا سحر (2-27) اور کیری چن (2-33) نے ان کا ساتھ دیا۔

سری لنکا کے خلاف سیمی فائنل جمعہ، 11 ستمبر کو شیڈول ہے۔

یہ میچ دو روز قبل اسی مقام پر بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی سات وکٹوں سے شکست کے بعد ٹیم کے لیے واپسی کا ایک موقع تھا۔ محتاط آغاز کے بعد، گل فیروزہ کی ٹورنامنٹ میں خراب کارکردگی کا سلسلہ جاری رہا اور وہ پچھلے دو میچوں میں صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد اس بار تین رنز بنا کر آؤٹ ہو گئیں۔

عائشہ ظفر نے 19 گیندوں پر 26 رنز بنا کر اننگز کو رفتار بخشی، جس کی بدولت پاکستان نے آدھی اننگز تک 82 رنز پر تین وکٹیں گنوائیں۔ تاہم، اس کے بعد ٹیم کو مڈل آرڈر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اسکور 92 پر تین وکٹ سے 101 پر چھ وکٹ ہو گیا، جب جویلین کور نے شوال ذوالفقار، صدف شمس اور ایمان فاطمہ کو آؤٹ کیا۔ طوبیٰ حسن نے 13 گیندوں پر 14 رنز بنا کر اننگز کو سنبھالنے میں مدد دی۔

ہانگ کانگ کے تعاقب میں پاکستانی بولرز نے ابتدا ہی میں کامیابیاں حاصل کیں، فاطمہ ثنا اور سعدیہ اقبال نے صرف دو اوورز میں حریف ٹیم کو ایک رن پر دو وکٹوں سے محروم کر دیا۔ یاسمین داسوانی اور کیری چن کے درمیان 31 رنز کی شراکت نے کچھ مزاحمت فراہم کی، لیکن نشرہ سندھو نے یہ شراکت توڑ کر بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

  1. ٹیم کو بہت مبارکباد! سیمی فائنل میں پہنچنا بڑی کامیابی ہے۔ خاص طور پر منیبہ علی کو ان کے 100ویں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ پر مبارکباد۔ یہ ایک اہم سنگ میل ہے۔

>