وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خستہ حال عمارتوں کے سروے اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کا حکم
ایک نظر میں
- وزیراعلیٰ مریم نواز نے مون سون کے بعد خستہ حال عمارتوں کے سروے کا حکم دیا۔
- زیر زمین پانی کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک 29 شہروں میں فعال اور 21 میں زیر تعمیر ہیں۔
- وزیراعلیٰ نے لاہور اور گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کو سراہا۔
اب تک کی صورتحال
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ مون سون کے موسم کے فوراً بعد صوبے بھر میں خستہ حال عمارتوں کا جامع سروے کیا جائے۔ انہوں نے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے فیز 1 کی فوری تکمیل کا بھی حکم دیا اور سیوریج اور نکاسی آب کے منصوبوں پر اثرات کے مطالعے کی رپورٹ طلب کیا۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو جاری ترقیاتی منصوبوں پر عوامی رائے مرتب کرنے کی ہدایت کی اور اعلان کیا کہ پانی کے بہتر انتظام کے لیے مختلف شہروں میں زیر زمین پانی کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے نکاسی آب کے نظام نے حالیہ بارشوں کے دوران کئی شہروں میں پانی کی نکاسی کی صورتحال کو بہتر بنایا ہے۔ انہوں نے مون سون کے دوران انتھک محنت کرنے والے افسران اور عملے کی تعریف کی۔ وزیرآباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خانیوال، جھنگ، جلال پور جٹاں، سمندری، وہاڑی، بورے والا، تاندلیانوالہ، جڑانوالہ، سمبڑیال، مریدکے، کھڈیاں، کبیروالا، چک جھمرہ، بھلوال، اٹک، کمالیہ، گوجرہ، علی پور چٹھہ، چیچہ وطنی، ڈسکہ، لیہ، سلانوالی، بہاولنگر اور میلسی جیسے شہروں میں ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ زیر زمین پانی کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک اب 29 شہروں میں فعال اور 21 میں زیر تعمیر ہیں۔ وزیراعلیٰ نے خاص طور پر لاہور کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن علی اعجاز کو باغبانپورہ میں عمارت گرنے کے مقام پر ان کی کوششوں اور گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر نوید احمد شیخ کو بارش کے پانی کی موثر نکاسی کے لیے سراہا۔
تازہ ترین پیش رفت
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے حال ہی میں متعدد شہروں میں ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور مون سون کے دوران ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کو سراہا۔ زیر زمین پانی کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک اب 29 شہروں میں فعال ہیں، جبکہ 21 مزید زیر تعمیر ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے حال ہی میں کئی شہروں میں پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ڈی پی) کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا، جن میں وہاڑی، بورے والا، تاندلیانوالہ، جڑانوالہ، سمبڑیال، مریدکے، کھڈیاں، کبیروالا، چک جھمرہ، بھلوال، اٹک، کمالیہ، گوجرہ، علی پور چٹھہ، چیچہ وطنی، ڈسکہ، لیہ، سلانوالی، بہاولنگر اور میلسی شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ زیر زمین پانی کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک اب 29 شہروں میں مکمل طور پر فعال ہیں، جبکہ مزید 21 مقامات پر ان کی تعمیر جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے لاہور کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن علی اعجاز کی کارکردگی کو بھی سراہا، خاص طور پر باغبانپورہ میں عمارت گرنے کے مقام پر 27 گھنٹے تک موجود رہنے کا ذکر کیا جب تک کہ آخری پھنسا ہوا شہری ملبے سے نکال نہیں لیا گیا۔ گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر نوید احمد شیخ کی کارکردگی کو بھی سراہا گیا، اور ریکارڈ بارش کے باوجود گوجرانوالہ میں چھ گھنٹوں کے اندر بارش کے پانی کی نکاسی کے کام کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
Responses