مرکزی خبر پر جائیں

وزیراعظم نے اچکزئی کو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے عمل پر یقین دہانی کرا دی

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: وزیراعظم نے اچکزئی کو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے عمل پر یقین دہانی کرا دی
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • وزیراعظم شہباز شریف نے قائد حزب اختلاف کو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے عمل پر یقین دہانی کرائی ہے۔
  • قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم کے رابطے کا خیرمقدم کیا ہے۔
  • جناب اچکزئی اب دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ باضابطہ مشاورت کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

اب تک کی صورتحال

نئے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کی تقرری کا آئینی عمل جاری ہے کیونکہ موجودہ کمشنر کی مدت جنوری 2025 میں ختم ہو رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو خط لکھ کر مذاکرات کا آغاز کیا۔ وزیراعظم نے اس کے بعد جناب اچکزئی کو باضابطہ جواب دیا ہے، جس میں انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آئینی عمل کی پیروی کی جائے گی۔ قائد حزب اختلاف نے اس یقین دہانی کا خیرمقدم کیا ہے اور اب وہ آگے بڑھنے سے پہلے پی ٹی آئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں سے باضابطہ مشاورت کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے حوالے سے وزیراعظم کے خط کا خیرمقدم کیا ہے اور اب وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں سے باضابطہ مشاورت کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

تازہ ترین اپڈیٹس

قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے مشاورت سے متعلق وزیراعظم کے خط کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیراعظم کی یقین دہانی کے بعد، جناب اچکزئی اب دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ باضابطہ مشاورت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) میں تقرریوں کے حوالے سے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے خط کا باضابطہ جواب دے دیا ہے۔

اپنے جواب میں وزیراعظم نے جناب اچکزئی کو یقین دلایا ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر (CEC) اور اس کے اراکین کی تقرری کے لیے آئینی طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ یہ خط و کتابت حکومتی نمائندوں رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چوہدری کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کے بعد ہوئی ہے۔

وزیراعظم کا خط موصول ہونے کے بعد، توقع ہے کہ جناب اچکزئی پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور اس معاملے پر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس کو بھی اعتماد میں لیں گے۔

جمعرات کو دستیاب اطلاعات کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔

مبینہ طور پر یہ ملاقات نئے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کی تقرری پر مشاورت کے لیے تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو نئے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کی تقرری پر لازمی مشاورت کے لیے باضابطہ طور پر مدعو کیا ہے۔ وزیراعظم کے قریبی ذرائع نے جمعرات کو ڈان کو اس دعوت کی تصدیق کی۔

رپورٹ کے مطابق، اپوزیشن لیڈر نے ابھی تک اس دعوت کا جواب نہیں دیا ہے۔ یہ پیشرفت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے حال ہی میں وزیراعظم پر زور دینے کے بعد ہوئی ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ سی ای سی کی تقرری سے بات چیت کا آغاز کریں۔ موجودہ سی ای سی سکندر سلطان راجہ کی پانچ سالہ مدت 26 جنوری 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔

آئین کے آرٹیکل 213 کے تحت، وزیراعظم کو قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد اس عہدے کے لیے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجنا ہوتے ہیں تاکہ ان میں سے کسی ایک کی تصدیق کی جا سکے۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے محمود خان اچکزئی کے خط کا جواب بھیج دیا ہے، جنہیں رپورٹس میں قائد حزب اختلاف کے طور پر مخاطب کیا گیا ہے۔

اگرچہ اس رابطے کا موضوع نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری بتایا جا رہا ہے، تاہم سرکاری طور پر تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف اور سیاسی رہنما محمود خان اچکزئی کے درمیان حالیہ رابطہ مبینہ طور پر نئے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کی تقرری کے حوالے سے تھا۔

اس سے قبل، اس بات کی تصدیق ہوئی تھی کہ وزیراعظم نے جناب اچکزئی کے ایک خط کا جواب دیا تھا، جسے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک اہم رابطہ قرار دیا گیا تھا، تاہم اس وقت موضوع کا انکشاف نہیں کیا گیا تھا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Nawai Waqt

الیکشن کمشن تقرریاں آئین کے مطابق ہونگی، وزیر اعظم: اپوزیشن لیڈر کو جوابی خط، گیٹس فاونڈیشن وفد کی ملاقات، نان ٹیرف اقدامات کیلئے روکنگ گروپ کی منظوری

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کے خط کا جواب دیدیا۔

GNN

Responses

>