وزیراعظم کا ترکیہ اور امریکا سے تعلقات مزید مستحکم کرنے پر زور
اب تک کی صورتحال
4 جولائی کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ مشکل وقت میں ایک ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ایک علیحدہ سفارتی پیشرفت میں، پاکستان کو ترکیہ کی جانب سے بھی بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
تجزیوں کے مطابق، موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ترکیہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
According to analysis, Prime Minister Shehbaz Sharif's visit to Türkiye is gaining further importance in light of current regional tensions.
اطلاعات کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ممکنہ 5 ارب ڈالر کے معاہدے پر بات چیت جاری ہے، اور دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ان مذاکرات میں تیل اور گیس کا شعبہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کی تفصیلات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
5 جولائی کو ایک نئے تجزیے میں، سابق سفیر علی سرور نقوی نے پاکستان، ترکیہ اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے خطے پر اس کے ممکنہ اثرات کی وضاحت کی۔
ایک نئی پیش رفت میں، دستیاب اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی ہے۔
پاکستان کے امن مشن کی حمایت میں ایک بیان میں، ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا، ”ہم ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔“
5 جولائی کی رپورٹس کے مطابق، ترک صدر نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے امن کی کوششیں جاری رہیں گی۔ اس بیان سے پاکستان کے لیے ترکیہ کی حمایت کا اعادہ ہوتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ریاستہائے متحدہ کے یوم آزادی کے موقع پر امریکی صدر اور عوام کو مبارکباد پیش کی۔
5 جولائی کو اپنے ریمارکس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے، وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ عالمی امن کے مفاد میں ایک ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
Responses