وزیراعظم اور محسن نقوی کی ملاقات، وزیر داخلہ کا افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے کا الزام
ایک نظر میں
- وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی لاہور میں قومی سلامتی پر ملاقات ہوئی۔
- وزیر داخلہ نے الزام لگایا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
- وزیراعظم نے سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
اب تک کی صورتحال
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے لاہور میں تفصیلی مشاورت کی۔ جناب نقوی نے وزیراعظم کو ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، بالخصوص خیبرپختونخوا، اور اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے مثبت رویے کو سراہا۔
تازہ ترین پیش رفت
وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
تازہ ترین اپڈیٹس
تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے والی اس ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ اس پر وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ مشاورت کے بعد جناب نقوی اسلام آباد روانہ ہو گئے، جہاں ان کی صدر پاکستان سے ملاقات طے تھی۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کے ساتھ جاری مذاکرات میں مثبت انداز اپنانے پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کو سراہا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، اپوزیشن کے ساتھ بقایا مسائل کو مسلسل بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی مشاورت کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی اسلام آباد روانہ ہو گئے۔
Musbat approach ka zikr acha hai. Is dialogue ke specific outcomes ya agreements ke baare mein bhi transparency ho to awam ka aitemaad barhega.
Opposition ke saath muzakarat ka zikr ummeed dilata hai. Mustaqil siyasi istehkam ke liye is qism ki guftugu jari rehni chahiye, sirf crisis ke waqt nahin.