مرکزی خبر پر جائیں

وشک میں انٹیلی جنس آپریشن میں دو دہشت گرد ہلاک

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: وشک میں انٹیلی جنس آپریشن میں دو دہشت گرد ہلاک
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • بلوچستان کے علاقے وشک میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران دو دہشت گرد ہلاک۔
  • ہلاک دہشت گرد مبینہ طور پر تھانے اور کسٹمز ہاؤس پر حملوں میں ملوث تھے۔
  • ایک حالیہ رپورٹ میں جولائی کے مہینے میں بلوچستان میں تشدد میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اب تک کی صورتحال

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع وشک میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد مشخیل پولیس اسٹیشن اور کسٹمز ہاؤس پر گزشتہ حملوں میں ملوث تھے۔ جائے وقوعہ سے ایک گاڑی، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ یہ آپریشن صوبے میں جاری انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا حصہ ہے، جہاں سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق حال ہی میں تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

سرکاری میڈیا نے اس آپریشن کو 'آپریشن ردالفتنہ فساد الہند' سے جوڑا ہے، یہ اصطلاح علاقائی عدم استحکام میں مبینہ بھارتی کردار کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ علیحدہ طور پر، جولائی کی ایک سیکیورٹی رپورٹ میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں بلوچستان میں مجموعی ہلاکتوں میں 241 فیصد اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

سرکاری میڈیا کے مطابق وشک میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا جانے والا آپریشن 'آپریشن ردالفتنہ فساد الہند' کا حصہ تھا۔ مبینہ طور پر ریاست نے بلوچستان میں قائم دہشت گرد گروہوں کو 'فساد الہند' کا نام دیا ہے تاکہ علاقائی عدم استحکام میں بھارت کے مبینہ کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ آپریشن ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ جولائی کی حالیہ سیکیورٹی رپورٹ میں بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال میں نمایاں بگاڑ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جون کے مقابلے جولائی میں صوبے میں مجموعی ہلاکتوں میں 241 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں 933 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے کے دوران دہشت گردوں اور شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>