نئی انتظامی اکائیوں کے قیام پر بحث جاری

0:000:00

ایک نظر میں

  • ایک قومی ڈائیلاگ کمیٹی نے پاکستان میں نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کو 'ناگزیر' قرار دیا ہے۔
  • حامی بہتر حکمرانی اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے لیے دلائل دے رہے ہیں۔
  • اس بحث میں ہزارہ صوبے کے مطالبات اور موجودہ صوبوں کی تقسیم کے بارے میں خدشات شامل ہیں۔

اب تک کی صورتحال

ایک قومی ڈائیلاگ کمیٹی نے پاکستان میں بہتر حکمرانی اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے لیے نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کو 'ناگزیر' قرار دیا ہے۔ اگرچہ کچھ لوگ موجودہ صوبوں کی تقسیم کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہیں، حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد بہتر انتظام ہے۔ اس بحث میں ہزارہ صوبے کے مطالبات شامل ہیں، جس کی ایک تحریک اور پارلیمانی قراردادوں کی تاریخ ہے۔ مختلف سیاسی شخصیات اور تجزیہ کار ایسی تنظیم نو کی ضرورت اور مضمرات پر اپنی رائے دے رہے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

پاکستان میں نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کے گرد بحث جاری ہے، مختلف سیاسی شخصیات اتفاق رائے یا تصادم کے امکانات پر اپنی بصیرت اور تجزیے پیش کر رہی ہیں۔

تازہ ترین اپڈیٹس

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے جے یو آئی کے سینیٹر طلحہ محمود کے ہمراہ صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 میں صوبہ ہزارہ کے لیے تحریک شروع ہوئی تھی جس کے دوران سات نوجوانوں نے جانیں قربان کیں، اور تمام سیاسی جماعتیں اس کے قیام پر متفق ہیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی 2014، 2018 اور 2020 میں صوبہ ہزارہ کے لیے تین بار آئینی قراردادیں منظور کر چکی ہے، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی اس کے بل پیش کیے جا چکے ہیں۔ سردار یوسف نے زور دیا کہ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس بہتر انتظام، ریونیو کی وصولی اور ترقیاتی کاموں کے لیے وقت کی ضرورت ہیں۔ علاوہ ازیں، وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے نئے صوبوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ عام لوگ اتحاد کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد نے بھی کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس ایک تعمیری اور ناقابل تردید حقیقت ہیں، اور انہوں نے سرائیکی پٹی، ہزارہ، بلوچستان اور کراچی کے عوام کی سماجی و سیاسی محرومیوں کا ذکر کیا۔

نثار کھوڑو نے نئے انتظامی یونٹس کے بارے میں بحث میں حصہ لیا ہے، اور اس پر وضاحت پیش کی ہے کہ آیا نئے صوبوں کی عدم موجودگی نے نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔

وسیم اختر نے نئے صوبوں سے متعلق 28ویں آئینی ترمیم کی ناگزیریت کے بارے میں بیان دیا ہے۔ مزید برآں، فواد چوہدری نے نئے صوبوں کے حوالے سے حکومت کی ممکنہ غیر فعالیت پر ایک سخت بیان جاری کیا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>