نیب نے دوسری سہ ماہی میں 2.45 کھرب روپے برآمد کیے، AI پر مبنی نظام کی طرف منتقلی
ایک نظر میں
- نیب نے 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 2.45 کھرب روپے برآمد کیے، جس سے پہلے نصف سال کی کل برآمدات 5.41 کھرب روپے ہو گئیں۔
- پاکستان بھر میں 10 لاکھ ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی برآمد کی گئی ہے۔
- نیب AI پر مبنی ای-انویسٹی گیشن نظام کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
اب تک کی صورتحال
قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران 2.45 کھرب روپے مالیت کے ریاستی اثاثوں کی بازیابی کا اعلان کیا، جس سے سال کے پہلے نصف کے لیے اس کی کل برآمدات 5.41 کھرب روپے ہو گئیں۔ ان برآمدات میں بلوچستان، سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں 1,078,283 ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی شامل ہے۔ نیب نے ای-آفس سسٹم میں بھی منتقلی کی ہے اور اپنی انسداد بدعنوانی کی کوششوں کو بڑھانے کے لیے AI پر مبنی ای-انویسٹی گیشن نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران 2.45 کھرب روپے کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی بازیابی کی اطلاع دی ہے، جو 2025 کی دوسری سہ ماہی میں 456.3 ارب روپے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ بیورو نے ای-آفس سسٹم میں بھی منتقلی کی ہے اور اپنی انسداد بدعنوانی کی کوششوں کو بڑھانے کے لیے AI پر مبنی ای-انویسٹی گیشن نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران 2.45 کھرب روپے مالیت کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے، نیز نقد رقم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار 2025 کی اسی مدت کے دوران برآمد کیے گئے 456.3 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں، نیب نے 2,962 ارب روپے کے اثاثے برآمد کیے، جس سے 2026 کے پہلے نصف کے لیے کل برآمدات 5,414 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔
احتساب کے ادارے نے کاغذ سے پاک اور خودکار عمل کے ذریعے ای-آفس سسٹم میں منتقلی کی ہے۔ بیورو اب AI پر مبنی ای-انویسٹی گیشن نظام کی طرف منتقلی کے انقلابی مرحلے میں ہے۔
Responses