ناسا کی رومن ٹیلی سکوپ کائنات کا نقشہ بنانے کے لیے 100 روزہ سفر پر روانہ
ایک نظر میں
- ناسا نے اپنی نئی فلیگ شپ رومن اسپیس ٹیلی سکوپ لانچ کر دی ہے۔
- 4 ارب ڈالر کی یہ آبزرویٹری کائنات کا نقشہ بنائے گی اور تاریک مادے کا مطالعہ کرے گی۔
- اسے زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور اپنے مدار تک پہنچنے میں تقریباً 100 دن لگیں گے۔
اب تک کی صورتحال
ناسا نے اتوار کو فلوریڈا سے اپنی نئی فلیگ شپ آبزرویٹری، نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی سکوپ، کامیابی کے ساتھ لانچ کی۔ 4 ارب ڈالر سے زائد لاگت کی یہ جدید ترین ٹیلی سکوپ اسپیس ایکس فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے خلا میں پہنچائی گئی۔ یہ اب زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور ایک مدار تک 100 روزہ سفر پر ہے۔ اس کا بنیادی مشن تاریک توانائی اور تاریک مادے جیسے کائناتی اسرار کی چھان بین کرنا، اور ہزاروں نئے ایکسوپلینٹس دریافت کرنا ہے، جو ہبل اور ویب ٹیلی سکوپ کے کام کو بہت وسیع فیلڈ آف ویو کے ساتھ آگے بڑھائے گی۔
تازہ ترین پیش رفت
ناسا کی نئی لانچ کی گئی رومن اسپیس ٹیلی سکوپ اب زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور اپنے مشاہداتی مقام تک 100 روزہ سفر پر ہے۔ 4 ارب ڈالر سے زائد لاگت کی یہ آبزرویٹری کائنات کا ایک نیا نقشہ بنائے گی، جس میں تاریک مادے، ایکسوپلینٹس اور دسیوں ہزار سپرنووا کی تلاش کی جائے گی۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Nasa launches new telescope to map cosmos
SPACEX launches Roman on a Falcon Heavy rocket from Nasa’s Kennedy Space Centre in Florida.—X/SpaceX • Roman designed to shed light on ‘unsolved mysteries’ including dark matter and dark energy • Also aims to discover thousands of exoplanets and supe
NASA launches powerful new Roman Space Telescope from Florida
CAPE CANAVERAL: NASA’s new flagship astronomical observatory was launched into space from Florida on Sunday on a mission to probe some of the biggest mysteries in astrophysics and cosmology. The Nancy Grace Roman Space Telescope, a roughly $4 billion
Responses