مرکزی خبر پر جائیں

میر رضا کیس: ہاتھوں اور پیروں پر کیمیکل سے جلنے کے نشانات تھے، پولیس سرجن کا بیان

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: میر رضا کیس: ہاتھوں اور پیروں پر کیمیکل سے جلنے کے نشانات تھے، پولیس سرجن کا بیان
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پولیس سرجن نے جوڈیشل کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کے ہاتھوں اور پیروں پر کیمیکل سے جلنے کے نشانات تھے۔
  • سرجن کے بیان میں کہا گیا کہ میت کی پشت پر گلنے سڑنے کے کوئی آثار نہیں تھے۔
  • اس سے قبل ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو تجزیے کے لیے نمونے بھیجنے میں تاخیر سے خبردار کیا تھا۔

اب تک کی صورتحال

میر رضا کی موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے ایک پولیس سرجن کا نیا بیان قلمبند کیا ہے، جس نے بتایا کہ مقتول کے ہاتھوں اور پیروں پر کیمیکل سے جلنے کے نشانات تھے، جبکہ اس کی پشت پر گلنے سڑنے کے کوئی آثار نہیں تھے۔ یہ پیشرفت ڈاکٹر سمیعہ کے پہلے بیان کے بعد ہوئی ہے، جس میں انہوں نے کمیشن کو تجزیے کے لیے نمونے بھیجنے میں تاخیر کے بارے میں مطلع کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ تاخیر سے نمونے ملنے سے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔ کمیشن اب تک 18 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر چکا ہے اور اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

ایک پولیس سرجن نے میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کو بتایا ہے کہ مقتول کے ہاتھوں اور پیروں پر کیمیکل سے جلنے کے نشانات تھے۔ سرجن کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ میر رضا کی پشت پر گلنے سڑنے کے کوئی آثار نہیں تھے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

میر رضا کیس میں ایک نئی پیشرفت میں، ایک پولیس سرجن نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے گواہی دی ہے۔ بیان کے مطابق، میر رضا کے ہاتھوں اور پیروں پر کیمیکل سے جلنے کے نشانات تھے۔ سرجن نے یہ بھی بتایا کہ میت کی پشت پر گلنے سڑنے کے کوئی آثار نہیں تھے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ نمک کا تیزاب پولیسٹر کو کاربن میں تبدیل کر سکتا ہے۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

>