حوثی افواج کے جنوبی سعودی عرب پر نئے میزائل حملے
ایک نظر میں
- حوثی افواج نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر نئے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
- سعودی قیادت والے اتحاد نے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی اور مناسب جواب کا عزم ظاہر کیا۔
- یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان نے مکہ میوچل ڈیفنس پیکٹ کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے، جو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ ایک سہ فریقی اجتماعی سلامتی کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایک رکن پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ تصدیق ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن میں حوثی افواج نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور جنوبی سعودی عرب پر نئے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ پاکستان پہلے بھی ایسے حملوں کی مذمت کر چکا ہے اور تربیتی مقاصد کے لیے مملکت میں اس کی افواج موجود ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت
حوثی افواج نے جنوبی سعودی شہروں خمیس مشیط، ابہا اور جازان کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور مملکت کے دفاع کے لیے جواب دیا جائے گا۔
تازہ ترین اپڈیٹس
جمعہ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یمن میں حوثی افواج نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر نئے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے تصدیق کی کہ متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی لیکن کہا کہ اتحادی افواج مملکت کی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مناسب جواب دیں گی۔
یہ کشیدگی یمن میں شدید لڑائی کے دوران سامنے آئی ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق حوثی افواج نے بحیرہ احمر میں اسٹریٹجک جزیرے زقر اور ساحلی شہر المخا پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، غیر مصدقہ دعوے بھی ہیں کہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ کیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ نے جمعرات، 10 ستمبر کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پاسداری کرے گا۔
یہ بیان سہ فریقی معاہدے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
سعودی سالمیت کی حمایت جاری رکھیں گے، دفاعی معاہدہ چھتری کی حیثیت رکھتا ہے: پاکستان
ریاض+ صنعا+ دوحہ + اسلام آباد+ تہران (آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ ) یمن میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں جبکہ یمن کے وزیر دفاع طاہر العقیلی کے قافلے پر حملہ کرکے انہیں یرغمال بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
پاک سعودیہ دفاعی تعاون جاری ہے، دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کیلئے وقت درکار ہوگا: ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہےکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ دفاعی تعاون جاری ہے اور دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے وقت درکار ہوگا۔
FO says Makkah defence pact 'defensive' in nature, expansion currently 'not on the cards'
The Foreign Office (FO) said on Thursday that the Makkah Defence Alliance between Pakistan, Saudi Arabia and Turkiye was “defensive” in nature, adding that expansion of the pact was currently “not on the cards”. FO spokesperson Sajjad Haider Khan mad
Pakistan says no plan to expand Makkah pact for now, calls it defensive alliance
ISLAMABAD – Foreign Office Spokesperson Sajjad Haider on Thursday said the Makkah agreement, signed between Pakistan, Turkiye and Saudi Arabia…
Pakistan says Makkah alliance is defensive, its expansion not on the cards
ISLAMABAD: The Makkah agreement, signed between Pakistan, Turkiye and Saudi Arabia last month, is a “defensive alliance” and there are no plans to expand it at the moment, Foreign Office Spokesperson Sajjad Haider Khan said on Thursday. The statement
Interesting that the focus is on consolidation first. I wonder what the detailed structure and procedures will look like. A clear framework is key for any defensive pact to be effective and not just symbolic.
It’s significant that a Pakistani will head the secretariat for the first three years. This could give Pakistan a key role in shaping the alliance’s initial operational framework and priorities. A big responsibility.
The emphasis on this being a ‘defensive’ pact is crucial. Hopefully, it serves as a deterrent and promotes regional stability, rather than drawing us into existing conflicts. Clear rules of engagement will be key.