پاکستان کے وسطی اور شمالی علاقوں میں شدید بارشوں کا نیا سلسلہ شروع
ایک نظر میں
- پاکستان کے وسطی اور شمالی علاقوں میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
- حکام نے لاہور، گوجرانوالہ اور مردان جیسے شہروں میں شہری سیلاب سے خبردار کیا تھا۔
- پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ برقرار ہے۔
اب تک کی صورتحال
محکمہ موسمیات پاکستان نے مون سون کی مضبوط لہروں کے باعث 21 سے 23 اگست تک شدید بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کی تھی۔ اس کے جواب میں، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے الرٹ جاری کرتے ہوئے ممکنہ شہری سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے خبردار کیا تھا۔ پیشگوئی کے مطابق، ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ اب شروع ہو چکا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
جمعہ، 21 اگست کی رپورٹوں کے مطابق، پیشگوئی کے مطابق شدید بارشوں کا سلسلہ پاکستان کے وسطی اور شمالی حصوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق جمعہ، 21 اگست کو پاکستان کے وسطی اور شمالی حصوں میں شدید بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
توقع ہے کہ موسم کا یہ نیا نظام 23 اگست تک مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشیں لائے گا۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے) پنجاب اور خیبرپختونخوا نے 21 اگست کی شام سے 23 اگست تک بارش اور گرج چمک کے نئے سلسلے کے لیے تفصیلی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ یہ الرٹ محکمہ موسمیات پاکستان کی پیشگوئی کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔
پنجاب میں لاہور، سرگودھا، فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژن میں شدید بارش متوقع ہے، جبکہ راولپنڈی، گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور بہاولپور ڈویژن میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال میں شہری سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، پشاور، مردان اور کوہاٹ سمیت دیگر علاقوں میں بارش متوقع ہے۔ حکام نے مردان اور صوابی میں شہری سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
دونوں صوبوں نے پہاڑی علاقوں بشمول مری، گلیات اور خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے زیادہ خطرے سے آگاہ کیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب سیف انور جپہ نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے اور برساتی نالوں میں ممکنہ طغیانی سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ خستہ حال عمارتوں سے دور رہیں اور آسمانی بجلی اور آندھی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
محکمہ موسمیات پاکستان نے اپنی پیشن گوئی کو دہراتے ہوئے کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں متوقع شدید بارشوں کے باعث ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ کا انتباہ جاری کیا ہے۔ تازہ ترین ایڈوائزری میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شمال میں بارشوں کے برعکس، سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں اس دوران موسم گرم رہنے کی توقع ہے۔ حکام کو کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) نے ملک میں مون سون کی ساتویں لہر کے لیے ایک تفصیلی پیشگوئی جاری کی ہے، جو 21 اگست کی شام سے 23 اگست تک متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، اس موسمی نظام سے مختلف علاقوں میں بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ کہیں کہیں شدید بارش کا امکان ہے۔ پیشگوئی میں شامل ہیں:
- کشمیر: وادی نیلم، مظفرآباد، پونچھ، باغ، کوٹلی اور میرپور۔
- خیبر پختونخوا: دیر، سوات، کوہستان، مالاکنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور اور مردان۔
- اسلام آباد اور پنجاب: دارالحکومت، راولپنڈی، مری، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ اور نارووال۔
- گلگت بلتستان: دیامیر، استور، اسکردو، ہنزہ اور گلگت۔
بلوچستان کے کچھ حصوں بشمول موسیٰ خیل، بارکھان اور ژوب میں بھی 21 اور 22 اگست کو بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔ سندھ کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔
Responses