نئے صوبوں پر بحث مختلف ردعمل کے ساتھ جاری
ایک نظر میں
- وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے صوبوں کے لیے ریفرنڈم کی تجویز پیش کی۔
- پی پی پی نے اس معاملے کو اپنی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
- سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اپنے صوبے کے لیے اس خیال کو سختی سے مسترد کر دیا۔
اب تک کی صورتحال
وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے صوبوں کے لیے ریفرنڈم کی تجویز پیش کرکے ملک گیر بحث کا آغاز کیا، یہ کہتے ہوئے کہ موجودہ "نظام ناکام ہو چکا ہے۔" انہوں نے عوامی جذبات پر زور دیا اور سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ساختی تبدیلیوں پر توجہ دیں۔ پی پی پی نے اس سوال کو اپنی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے، جس میں سیکرٹری جنرل نئیر بخاری نے آئینی طریقہ کار پر زور دیا۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اپنے صوبے کے لیے اس خیال کو سختی سے مسترد کر دیا، نقوی کی سوچ کو "قدیم" قرار دیتے ہوئے۔ لاہور کے وکلاء نے اس تجویز کو غیر آئینی قرار دیا، اور سندھی قوم پرست گروہوں نے نقوی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ ایاز لطیف پالیجو نے اسے سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نقوی کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
وزیر داخلہ محسن نقوی کی نئے صوبوں کی تجویز پر بحث جاری ہے، پی پی پی نے اس معاملے کو اپنی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے حوالے سے جاری بحث میں اب کراچی صوبے کے امکانات پر بھی بات چیت شامل ہے۔
ایاز لطیف پالیجو نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بیان کو سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔
نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے گرد بحث تیز ہو گئی ہے، جس میں اب خاص طور پر پنجاب کے اندر متعدد نئے صوبوں کے امکان پر توجہ دی جا رہی ہے۔
Responses