خواتین اور بچوں سے متعلق سائبر کرائم کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کا حکم
ایک نظر میں
- محسن نقوی نے خواتین اور بچوں سے متعلق سائبر کرائم کیسز پر ترجیحی کارروائی کا حکم دیا ہے۔
- انہوں نے سزا کی شرح بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا ہے۔
- یہ ہدایات لاہور میں این سی سی آئی اے ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران جاری کی گئیں۔
اب تک کی صورتحال
وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سینٹرل زون ہیڈکوارٹر لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سائبر کرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے خاص طور پر حکام کو آن لائن مالی فراڈ اور ہراسانی کے خلاف فوری اور بلا امتیاز کارروائی کی ہدایت کی اور کہا کہ مجرم کہیں بھی ہو اسے قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
تازہ ترین پیش رفت
وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ خواتین اور بچوں کو آن لائن ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے سے متعلق سائبر کرائم کیسز کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے ان جرائم سے نمٹنے کے لیے سزا کی شرح بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا۔
تازہ ترین اپڈیٹس
لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مزید ہدایات جاری کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کو آن لائن ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے سے متعلق کیسز کو اولین ترجیح دینے کا حکم دیا ہے۔
وزیر داخلہ نے سائبر کرائم کے مقدمات میں سزا کی شرح بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تفتیشی افسران کی تربیت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے این سی سی آئی اے کو ایک مؤثر سائبر فورس کے طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے کی ہدایت کی۔
لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سائبر کرائم کے خلاف مزید سخت ردعمل کے لیے مخصوص ہدایات جاری کیں۔
انہوں نے حکام کو آن لائن مالیاتی فراڈ اور ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی کا حکم دیا۔ محسن نقوی نے کہا، 'سائبر کرائم کرنے والا چاہے کہیں بھی بیٹھا ہو، اسے قانون کی گرفت میں لانا ہے'۔ انہوں نے مالیاتی فراڈ کی شکایات پر زیادہ مؤثر اور فوری رسپانس سسٹم کی ضرورت پر زور دیا اور متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے دیگر اداروں کے ساتھ بہتر روابط کا مطالبہ کیا۔ وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہریوں کو شکایت درج کرانے کے بعد طویل انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
Responses
You must be logged in to post a comment.
This is a positive development. A key question will be whether the crackdown addresses all forms of cybercrime with equal urgency, from financial fraud to online harassment and the spread of disinformation.