مرکزی خبر پر جائیں

عمران خان کی انجیوگرافی میں تاخیر پر علی محمد خان نے سوالات اٹھا دیے

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: عمران خان کی انجیوگرافی میں تاخیر پر علی محمد خان نے سوالات اٹھا دیے
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پی ٹی آئی کے علی محمد خان نے عمران خان کے طبی علاج میں تاخیر پر سوال اٹھایا ہے۔
  • عمران خان کے لیے یکم اگست کو تجویز کردہ سی ٹی انجیوگرافی تاحال نہیں کی گئی۔
  • خان کو طبی سفارش کی بنیاد پر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

اب تک کی صورتحال

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پارٹی چیئرمین عمران خان کی طبی دیکھ بھال کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کے مطابق، امراض قلب کے ماہرین نے یکم اگست کو عمران خان کے لیے سی ٹی انجیوگرافی کی سفارش کی تھی۔ اسی طبی مشورے کی بنیاد پر انہیں پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم، مبینہ طور پر اگست کے آخر تک یہ پروسیجر نہیں کیا گیا، جس پر ان کی پارٹی نے تاخیر کے پیچھے ممکنہ سیاسی محرکات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے عوامی سطح پر سوال اٹھایا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے یکم اگست کو تجویز کردہ سی ٹی انجیوگرافی اب تک کیوں نہیں کی گئی، انہوں نے پمز ہسپتال میں ان کے طبی علاج میں نمایاں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>