مرکزی خبر پر جائیں

سینیٹ کمیٹی اجلاس: گوجرانوالہ کے خاکروب کی ہلاکت پر سینیٹرز میں جھڑپ

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: سینیٹ کمیٹی اجلاس: گوجرانوالہ کے خاکروب کی ہلاکت پر سینیٹرز میں جھڑپ
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • مسلم لیگ (ن) کے عابد شیر علی اور اے این پی کے ایمل ولی خان سینیٹ کمیٹی میں آپس میں لڑ پڑے۔
  • تنازعہ گوجرانوالہ کے ایک خاکروب کی ہلاکت پر تھا۔
  • کمیٹی ملازم کی مبینہ خودکشی اور ملازمت کی شرائط کا جائزہ لے رہی تھی۔

اب تک کی صورتحال

بدھ کو سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے عابد شیر علی اور اے این پی کے ایمل ولی خان کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔ یہ تصادم اس وقت ہوا جب کمیٹی گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ایک ملازم کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہی تھی، جس نے مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔ کشیدگی اس وقت بڑھی جب خان نے حکام سے سوالات کیے، جس پر علی نے ان کے لہجے پر اعتراض کیا، جو ایک زبانی جھگڑے کا باعث بنا۔

تازہ ترین پیش رفت

سینیٹرز کے درمیان گرما گرم بحث کی وجہ ہسپتال میں آگ لگنا نہیں بلکہ گوجرانوالہ کے ایک خاکروب کی ہلاکت تھی۔ بحث اس وقت شروع ہوئی جب عابد شیر علی نے ایمل ولی خان کے حکام سے سوال کرنے کے انداز پر اعتراض کیا۔

تازہ ترین اپڈیٹس

بدھ کو سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کے عابد شیر علی اور اے این پی کے ایمل ولی خان کے درمیان شدید جھڑپ کا موضوع پیمز میں آگ لگنے کا واقعہ نہیں بلکہ گوجرانوالہ کے ایک خاکروب کی ہلاکت کا معاملہ تھا۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت کمیٹی گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (جی ڈبلیو ایم سی) کے ایک ملازم کی مبینہ خودکشی کے معاملے کا جائزہ لے رہی تھی۔ کشیدگی اس وقت بڑھی جب سینیٹر خان نے ستھرا پنجاب کے حکام سے سوالات کیے، جس پر سینیٹر علی نے ان کے لہجے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا، ”ان کی بات سنیں — آپ ایسے انکوائری اور سوالات کر رہے ہیں جیسے آپ تھانے میں بیٹھے ہوں۔“

ایمل ولی خان نے جواب دیا، ”میں ٹھیک سے بات کر رہا ہوں — آپ بھی ٹھیک سے بات کریں،“ جس کے بعد دیگر سینیٹرز نے مداخلت کرکے صورتحال کو پرسکون کیا۔

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملازم کا کنٹریکٹ 31 مئی 2026 کو ختم ہو گیا تھا اور مبینہ خودکشی اس کی ملازمت ختم ہونے کے بعد ہوئی۔ ایمل ولی خان نے الزام لگایا کہ ملازم کو صرف آدھی تنخواہ دی گئی تھی، جس نے اسے اس انتہائی اقدام پر مجبور کیا۔ تاہم، جی ڈبلیو ایم سی کے سی ای او نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بینک ریکارڈز مکمل تنخواہ کی ادائیگی کو ظاہر کرتے ہیں اور ملازم کے کارکردگی کے مسائل تھے۔

رپورٹس کے مطابق یہ تصادم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں لگنے والی آگ کے بعد فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج نہ کیے جانے پر ہوا، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔

بدھ کو سینیٹ کی کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے عابد شیر علی اور اے این پی کے ایمل ولی خان کے درمیان تلخ کلامی مبینہ طور پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج نہ کرنے پر ہوئی۔

دونوں سیاستدانوں نے سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کی کارروائی کے دوران پمز کیس میں ایف آئی آر کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN

Responses

>