لندن ملاقات: صدر زرداری اور بلاول بھٹو کا نئے صوبوں کی مخالفت پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ
ایک نظر میں
- صدر زرداری اور بلاول بھٹو کی لندن میں پانچ گھنٹے طویل ملاقات ہوئی۔
- انہوں نے نئے صوبے بنانے کی مخالفت پر پیپلز پارٹی کے مؤقف پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا۔
- یہ ملاقات پاکستان کے حکمران اتحاد میں اس معاملے پر جاری وسیع تر بحث کے دوران ہوئی ہے۔
اب تک کی صورتحال
لندن میں اعلیٰ سطح کی سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے ممکنہ "لندن پلان 2" کے بارے میں قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے۔ صدر آصف علی زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سبھی شہر میں موجود ہیں۔ تازہ ترین پیشرفت میں، صدر زرداری اور بلاول بھٹو نے پانچ گھنٹے طویل ملاقات کی، جس میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا گیا، یہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے جو اس وقت پاکستان کے حکمران اتحاد میں اختلافات کا باعث ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
لندن میں پانچ گھنٹے طویل ملاقات میں صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نئے صوبوں، بالخصوص سندھ کی کسی بھی تقسیم کے خلاف پارٹی کے مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان جمعہ کو لندن میں پانچ گھنٹے طویل ملاقات ہوئی جس میں پارٹی کے نئے صوبوں، بالخصوص سندھ کی کسی بھی تقسیم کے خلاف مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہنے کا فیصلہ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، ملاقات میں فریال تالپور کی حالیہ تقریر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بختاور بھٹو زرداری بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ ملاقات کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ مزید چند روز لندن میں قیام کریں گے اور صحافیوں سے ملاقات کریں گے۔
ہفتے کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا دورہ لندن مبینہ طور پر تین روزہ نجی دورہ ہے۔
ایک تازہ پیش رفت میں، صدر آصف علی زرداری نے لندن میں اپنے بیٹے، پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی بختاور بھٹو زرداری سے بھی ملاقات کی۔
جمعہ کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صدر آصف علی زرداری سے لندن میں ملاقات کی۔
رپورٹس کے مطابق، ان کی گفتگو پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور دیگر حالیہ پیش رفت پر مرکوز تھی۔
جمعہ، 4 ستمبر کی مزید رپورٹس کے مطابق، لندن میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات، جنہیں 'لندن پلان 2' کہا جا رہا ہے، میں اب صدر آصف علی زرداری کے سیاسی مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں بھی شامل ہو گئی ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا صدر عہدہ چھوڑنے پر غور کر سکتے ہیں، جس سے ممکنہ جانشین کے بارے میں بحث شروع ہو گئی ہے۔
لندن میں جاری اعلیٰ سطحی سیاسی مذاکرات کے دوران، 4 ستمبر کی اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز بھی شہر میں پہنچ گئی ہیں۔ ان کی آمد صدر آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے موقع پر ہوئی ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
لندن میں صدر زرداری کی بلاول بھٹو سے ملاقات، صوبوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی کے موقف پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ
صدرمملکت آصف علی زردار ی سے لندن میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی ملاقات ہوئی ،ملاقات میں سندھ کی تقسیم پر پیپلزپارٹی کے مؤقف پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا گیا۔
Responses