مرکزی خبر پر جائیں

سندھ اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، ایم کیو ایم کی جانب سے اجلاس نہ چلنے دینے کی دھمکی

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: سندھ اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، ایم کیو ایم کی جانب سے اجلاس نہ چلنے دینے کی دھمکی
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی قیادت میں اپوزیشن کے احتجاج سے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں خلل پڑ رہا ہے۔
  • ایم کیو ایم رہنما علی خورشیدی نے مستقبل کے اسمبلی اجلاسوں کو روکنے کی دھمکی دی ہے۔
  • احتجاج پیپلز پارٹی کی زیر قیادت صوبائی حکومت کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

اب تک کی صورتحال

سندھ اسمبلی اپوزیشن اراکین، خاص طور پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے شدید احتجاج کی وجہ سے مسلسل ہنگامہ آرائی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ احتجاج اور گرما گرمی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت والی صوبائی حکومت کے خلاف ہے۔ گزشتہ اجلاسوں میں پی ٹی آئی رہنما سجاد سومرو کی جانب سے پرجوش تقاریر اور ایم کیو ایم کے علی خورشیدی کی جانب سے تنقید دیکھنے میں آئی تھی۔

تازہ ترین پیش رفت

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما علی خورشیدی نے منگل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اپوزیشن جاری احتجاج کے دوران اسمبلی کا اجلاس نہیں چلنے دے گی۔

تازہ ترین اپڈیٹس

سندھ اسمبلی میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما علی خورشیدی نے منگل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اپوزیشن اسمبلی کا اجلاس نہیں چلنے دے گی۔ یہ بیان صوبائی مقننہ میں جاری خلل میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سجاد سومرو نے ایک جارحانہ تقریر کی، جس سے اسمبلی فلور پر گرما گرمی کی فضا میں مزید اضافہ ہوا۔

منگل کو سندھ اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما علی خورشیدی نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی زیر قیادت صوبائی حکومت کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ اجلاس کے بعد دیے گئے ریمارکس میں خورشیدی نے کارروائی پر بھی تبصرہ کیا، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق انہوں نے سندھ کے وزیر اعلیٰ اور اسمبلی اسپیکر کے درمیان مبینہ کشیدگی پر بھی بات کی۔

منگل، 8 ستمبر کو سندھ اسمبلی کا اجلاس مزید بدنظمی کا شکار ہوگیا جب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اراکین نے احتجاج کیا اور مبینہ طور پر اسپیکر کے ساتھ ان کا تصادم ہوا۔

اس واقعے نے ان افراتفری کے مناظر میں مزید اضافہ کیا جو پہلے ہی اجلاس کی کارروائی کا حصہ تھے، جن میں نعرے بازی اور اسمبلی فلور پر گرما گرم بحث شامل تھی۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>