مرکزی خبر پر جائیں

حکومت کا مؤقف: عمران خان کی منتقلی کا سپریم کورٹ کا حکم ‘دائرہ اختیار سے باہر’ تھا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: حکومت کا مؤقف: عمران خان کی منتقلی کا سپریم کورٹ کا حکم ‘دائرہ اختیار سے باہر’ تھا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • حکومت نے عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کو چیلنج کر دیا۔
  • درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ حکم امتیازی اور 'عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر' ہے۔
  • یہ کیس دیگر سیاسی شخصیات کے ماضی میں علاج معالجے سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔

اب تک کی صورتحال

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک نظرثانی درخواست دائر کی ہے، جس میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو ایک نجی ہسپتال منتقل کرنے کے پہلے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ حکومت کی درخواست میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ یہ حکم امتیازی ہے اور 'عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر' دیا گیا، اور یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایک سزا یافتہ قیدی کے طور پر، خان کا علاج سرکاری سہولت میں ہونا چاہیے۔

تازہ ترین پیش رفت

سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف وفاقی حکومت کی نظرثانی کی درخواست میں مبینہ طور پر یہ دلیل دی گئی ہے کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی ہدایت 'عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر' تھی۔

تازہ ترین اپڈیٹس

اپنی قانونی چارہ جوئی میں، حکومت مبینہ طور پر یہ دلیل دے رہی ہے کہ منتقلی کے لیے سپریم کورٹ کا عبوری حکم 'اس کے دائرہ اختیار سے باہر' تھا۔

حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے سپریم کورٹ کے حکم کو چیلنج کیے جانے کے بعد قید سیاسی شخصیات کے طبی علاج پر بحث ماضی کی مثالوں سے اجاگر ہوئی ہے۔ اس سے قبل دیگر نمایاں رہنماؤں کو بھی جیل سے باہر طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کو 2018 میں قید کے دوران دل کی تکلیف کے باعث اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تھا۔ 2019 میں انہیں طبی بنیادوں پر علاج کے لیے لندن جانے کی اجازت دی گئی۔

اسی طرح سابق صدر پرویز مشرف کو 2014 میں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جایا گیا تھا۔ 2016 میں انہیں طبی وجوہات کی بنا پر دبئی جانے کی اجازت دی گئی اور وہ 2023 میں اپنے انتقال تک وہیں مقیم رہے۔

حکومت کے قانونی چیلنج کے جواب میں، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مبینہ طور پر سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف وفاقی حکومت کی نظرثانی درخواست پر طنزیہ ریمارکس دیے ہیں۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپنی نظرثانی کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم 'امتیازی' ہے اور 'دائرہ اختیار سے تجاوز' کرتے ہوئے جاری کیا گیا۔

اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکم میں 'قانون کی غلطیاں ریکارڈ پر واضح' ہیں۔

درخواست میں خاص طور پر کہا گیا ہے کہ عدالت نے پاکستان پرزن رولز 1978 کے قاعدہ 197 پر غور نہیں کیا، جس میں قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ حکومتی درخواست میں اس قاعدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے وضاحت کی گئی ہے کہ ایسی منتقلیوں کے لیے پولیس انسپکٹر جنرل کے ذریعے حکومتی احکامات کی ضرورت ہوتی ہے، سوائے ہنگامی حالات کے جہاں جیل سپرنٹنڈنٹ فوری کارروائی کر سکتا ہے۔

حکومت نے مزید استدلال کیا کہ ایک ایسی رپورٹ کی بنیاد پر نجی ہسپتال میں علاج کی ہدایت کرنا، جس میں فوری طبی مداخلت کی ضرورت کی نشاندہی نہیں کی گئی، 'پورے فوجداری انصاف کے نظام کو شدید طور پر متاثر' کر سکتا ہے۔

وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی معائنے کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنے کے 18 اگست کے عبوری حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں باضابطہ طور پر نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔ یہ درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم اس کے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتا ہے اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ درخواست میں حوالہ دیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ 12 مارچ 2026 کو اسی نوعیت کی استدعا پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ حکومتی استدعا میں پاکستان پریزن رولز 1978 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی قیدی کو بیرونی ہسپتال منتقل کرنے کا ایک واضح قانونی طریقہ کار موجود ہے، جس میں حکومتی منظوری اور پولیس کی نگرانی شامل ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو ہدایت جاری کرنے سے قبل ماہرین کی طبی رائے پر غور کرنا چاہیے تھا۔ سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ ہسپتال منتقلی کے اپنے حکم پر نظرثانی کرے اور اسے واپس لے۔

وفاقی حکومت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف باضابطہ طور پر نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے دائر کی گئی۔ اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا عدالتی حکم اس کے دائرہ اختیار سے تجاوز ہے اور اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔

وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے نجی اسپتال میں طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس معاملے پر عدالت سے رجوع کرنے کے حکومتی ارادے کی تصدیق کی ہے۔

19 اگست کی دستیاب رپورٹس کے مطابق، وفاقی حکومت مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے شفا ہسپتال میں طبی علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کر رہی ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>