مرکزی خبر پر جائیں

جماعت اسلامی کا مہنگائی کے خلاف احتجاج پانچویں روز میں داخل

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: جماعت اسلامی کا مہنگائی کے خلاف احتجاج پانچویں روز میں داخل
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • جماعت اسلامی کا مہنگے پیٹرول کے خلاف احتجاج پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔
  • لاہور اور کراچی سمیت دیگر شہروں میں دھرنے جاری ہیں۔
  • جے آئی سربراہ نے مطالبات نہ ماننے پر اسلام آباد کی طرف مارچ کی دھمکی دی ہے۔

اب تک کی صورتحال

جماعت اسلامی (جے آئی) نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکسوں کے خلاف ملک گیر دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ پارٹی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پر ایک لیٹر پیٹرول پر 130 روپے ٹیکس وصول کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبات پورے نہ ہونے پر اسلام آباد کی طرف مارچ کی دھمکی دی ہے۔ یہ احتجاج، جو اب پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے، حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت 334.54 روپے فی لیٹر کرنے کے اعلان کے بعد شروع ہوا تھا۔

تازہ ترین پیش رفت

20 اگست تک جماعت اسلامی کے دھرنے لاہور اور کراچی سمیت بڑے شہروں میں پانچویں روز بھی جاری ہیں۔

تازہ ترین اپڈیٹس

رپورٹس کے مطابق، 20 اگست کو جماعت اسلامی کے مہنگے پیٹرول اور ٹیکسوں کے خلاف دھرنے لاہور اور کراچی سمیت دیگر شہروں میں پانچویں روز میں داخل ہو گئے ہیں۔

19 اگست کی اطلاعات کے مطابق، پیٹرول کی موجودہ قیمتوں اور حکومتی لیویز کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنوں کے باوجود پیٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ پارٹی نے اپنے مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں، جو چوتھے روز میں داخل ہو گئے ہیں۔ پارٹی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی دھمکیوں کا اعادہ کیا ہے۔ رپورٹس میں کسی نئے مخصوص اعلان کی تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔

پشاور میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پر اپنی تنقید تیز کر دی ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو واپس لینے اور پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنے کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کی قیادت کریں گے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ پارٹی ”کرپشن اور لوٹ مار کے نظام کو جام کر دے گی“ اور خبردار کیا کہ ایک بار جب مظاہرین دارالحکومت پہنچ گئے تو وہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اب ایک لیٹر پیٹرول پر 130 روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے اور روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کی پالیسی کو مسترد کر دیا، جسے انہوں نے کہا کہ ”رات کی تاریکی میں“ کیا جاتا ہے۔

جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنے چوتھے روز میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہ مظاہرے پیٹرولیم لیوی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں ایک اور اضافے کے بعد جماعت اسلامی (جے آئی) نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنا دیا ہے۔

یہ احتجاج حکومت کی جانب سے منگل کو 19 اگست سے قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 3.34 روپے کا اضافہ کر کے 334.54 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.27 روپے کا اضافہ کر کے 395.69 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔

ایک متعلقہ پیش رفت میں، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے جواب میں، جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اضافہ واپس نہ لیا تو ملک گیر ہڑتال کی کال دی جا سکتی ہے۔

حافظ نعیم نے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر عوامی تشویش کو اجاگر کیا۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق، شہریوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافے پر شدید مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق لوگوں نے کہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے محدود آمدنی میں گھریلو بجٹ اور سفری اخراجات کو پورا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں کمی کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>