مرکزی خبر پر جائیں

حکومت نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کی باقاعدہ درخواست کر دی

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: حکومت نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کی باقاعدہ درخواست کر دی
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • حکومت نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کی باقاعدہ درخواست کی ہے۔
  • وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے حکومتی درخواست کی تصدیق کی ہے۔
  • یہ اقدام پی ٹی آئی کے مسلسل مطالبات کے بعد کیا گیا ہے، جس نے حکومت پر خان کی صحت پر سیاست کرنے کا الزام لگایا تھا۔

اب تک کی صورتحال

پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی صحت کا معاملہ ان کی جماعت اور حکومت کے درمیان تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی ان کی اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقلی کا مطالبہ کرتی رہی ہے، حکومت پر اس معاملے پر سیاست کرنے اور سپریم کورٹ کی ہدایت کا حوالہ دینے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ حکومت نے ابتدائی طور پر جواب دیا تھا کہ خان کو تمام ضروری دیکھ بھال فراہم کی جائے گی لیکن انہیں جیل واپس بھیج دیا جائے گا، اور پی ٹی آئی پر "ہمدردی کارڈ" کھیلنے کا الزام لگایا تھا۔ اب، حکومت نے خود ہسپتال منتقلی کی باقاعدہ درخواست کی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

حکومت نے باضابطہ طور پر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی ہے، اس اقدام کی تصدیق وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کی ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق، حکومت نے باضابطہ طور پر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔

یہ پیشرفت حکومت کے موقف میں ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جو پی ٹی آئی کی جانب سے خان کو ہسپتال میں داخل کرنے کے کئی دنوں کے مطالبات کے بعد سامنے آئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بدھ کے روز حکومت پر اپنے بانی عمران خان کی صحت پر سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے ان کے ریمارکس کو 'انتہائی قابل مذمت، غیر ذمہ دارانہ اور شرمناک' قرار دیا۔

ایک بیان میں، پی ٹی آئی نے زور دیا کہ خان کی صحت ایک انسانی اور بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے، نہ کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا معاملہ۔ پارٹی نے حکومت کے اس دعوے کو چیلنج کیا کہ خان کو اڈیالہ جیل میں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک میڈیکل رپورٹ کا حوالہ دیا۔

پی ٹی آئی کے مطابق، اسی رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور ایک ماہر میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا حکم دیا تھا۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ اگر جیل میں علاج تسلی بخش تھا تو ایسے احکامات کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاملے سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی پی ٹی آئی حکومت نے سیاسی اختلافات کے باوجود علاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں طبی علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>