مرکزی خبر پر جائیں
0سکے

بھارتی الیکشن کمیشن میں داخلی اختلافات کی اطلاعات، اپوزیشن کے احتجاج میں شدت

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: بھارتی الیکشن کمیشن میں داخلی اختلافات کی اطلاعات، اپوزیشن کے احتجاج میں شدت
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • بھارت میں 13 کروڑ نام ووٹر لسٹوں سے نکالنے کے دعووں پر احتجاج جاری ہے۔
  • کچھ الیکشن کمشنرز نے مبینہ طور پر چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں کو 'غیر قانونی' قرار دیا ہے۔
  • اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو احتجاجی مارچ کے دوران مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔

اب تک کی صورتحال

بھارت میں اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، اور الزام عائد کیا ہے کہ 30 ریاستوں میں ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ سے زائد نام ہٹا دیے گئے ہیں۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ نئی دہلی میں ایک مارچ کے دوران کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی اور دیگر قانون سازوں کو پولیس نے مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر دلائل سننے پر اتفاق کیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

اطلاعات کے مطابق بھارتی الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں، جہاں کچھ کمشنرز نے ووٹر لسٹ تنازع کے درمیان چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فیصلوں کو مبینہ طور پر 'غیر قانونی' قرار دیا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق لاکھوں ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے نکالے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے اندر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، کچھ الیکشن کمشنرز نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فیصلوں کو 'غیر قانونی' قرار دے دیا ہے، جس سے جاری اپوزیشن احتجاج کو ایک نئی جہت ملی ہے۔

بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج میں اس وقت شدت آ گئی جب یہ دعوے سامنے آئے کہ خصوصی نظرثانی کے عمل کے دوران 30 ریاستوں میں ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ سے زائد شہریوں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں۔ یہ الزام منگل کو نئی دہلی میں ایک مارچ کے دوران راہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں کی مختصر حراست کے دوران سامنے آیا۔

رپورٹس کے مطابق، پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور متعدد گرفتاریاں کیں۔ ایک تجزیہ کار، ریٹائرڈ بریگیڈیئر راشد ولی نے উল্লেখ کیا کہ ماضی میں بہار اور مغربی بنگال کے انتخابات کے دوران بھی ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں کے ایسے ہی الزامات سامنے آئے تھے۔

Responses

    1. Beyond the current dispute, this highlights a critical need for robust, publicly auditable voter registration systems. Technology could offer solutions, but transparency would be the most important feature.

  1. An allegation involving 130 million people is staggering. The integrity of any election depends on a voter list that all sides can trust. It’s important that the Supreme Court is hearing the matter.

    1. Indeed. The practical challenge is how to transparently verify such a huge number of claims and corrections, especially with an election timeline in mind. The logistics must be immense.

تازہ ترین فیکٹ چیکس

Business Recorder

Hundreds of police guard Indian capital ahead of opposition protest

NEW DELHI: Hundreds of security personnel fanned out on Tuesday in the heart of the Indian capital, with barricades thrown up ahead of an opposition march to demand the resignation of the election chief over a controversial revision of voter lists. P

>

Share story