مرکزی خبر پر جائیں

پاکستان اور مسلم ممالک کا اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کا خیرمقدم

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: پاکستان اور مسلم ممالک کا اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کا خیرمقدم
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پاکستان اور 7 دیگر مسلم ممالک نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے سامان پر برطانوی پابندی کا خیرمقدم کیا۔
  • اس گروپ نے 12 مغربی ممالک کی طرف سے اسی طرح کے ارادے کے بیان کو بھی سراہا۔
  • اسرائیل نے پہلے پابندیوں پر برطانیہ کے خلاف انتقامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

برطانیہ، کینیڈا اور فرانس کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد ایک سفارتی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ جوابی کارروائی میں، اسرائیل نے برطانیہ کے خلاف مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کی بندش سمیت تعزیری اقدامات کا اعلان کیا۔ پاکستان نے سات دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں پابندیوں کا خیرمقدم کیا گیا اور دو ریاستی حل کا مطالبہ کیا گیا۔

تازہ ترین پیش رفت

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے ایک گروپ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے سامان پر برطانوی پابندی کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور 12 مغربی ممالک کے اسی طرح کے ارادے کے بیان کو بھی سراہا گیا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

اپنے مشترکہ بیان میں، پاکستان اور سات دیگر مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے کینیڈا، فرانس اور برطانیہ سمیت 12 مغربی ممالک کی طرف سے جاری کردہ ایک علیحدہ مشترکہ بیان کا بھی خیرمقدم کیا۔ اس دوسرے بیان میں مغربی ممالک نے بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر قومی پابندیاں متعارف کرانے یا ان پر غور کرنے کے اپنے ارادے کی توثیق کی۔

پاکستان نے سات دیگر مسلم ممالک کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کے برطانوی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کا یہ اقدام عالمی برادری کو اسی طرح کے اقدامات کی طرف راغب کرے گا۔ اس میں غیر قانونی بستیوں کی سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لیے 'ٹھوس اقدامات' کا مطالبہ کیا گیا اور تمام ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیل کے غیر قانونی قبضے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو تسلیم نہ کریں۔

وزراء نے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے پر مکمل اور فوری عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا اور دو ریاستی حل کو ایک منصفانہ اور دیرپا امن کا واحد قابل عمل راستہ قرار دیا۔

12 ممالک کے اتحاد، جس نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا کہ وہ اسی طرح کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، میں ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن شامل ہیں۔ گروپ نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی پالیسیاں دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

پاکستان نے بدھ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے برطانیہ کی زیر قیادت فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ غیر قانونی بستیوں کی مسلسل توسیع ”بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی“ ہے اور دو ریاستی حل کی کوششوں کو کمزور کرتی ہے۔

دفتر خارجہ نے کینیڈا اور فرانس سمیت 12 دیگر ممالک کے مشترکہ بیان کا بھی خیرمقدم کیا، جو اسی طرح کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا، ”پاکستان کو امید ہے کہ ان اقدامات سے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اقدامات کو مسترد کرنے کا واضح اور غیر مبہم پیغام جائے گا،“ اور اسلام آباد نے فلسطینی عوام کے ”حق خودارادیت کے لیے منصفانہ جدوجہد“ کی حمایت کا اعادہ کیا۔

برطانیہ نے اسرائیل کے خلاف اپنی پابندیوں کی وضاحت کی ہے، وزیر اعظم اینڈی برنہم نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ برطانیہ اس معاملے پر عالمی سطح پر قیادت کر رہا ہے۔ دارالعوام سے تفصیلی خطاب میں وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیل پر غزہ میں جنگی جرائم کا الزام عائد کرتے ہوئے 70,000 افراد کی ہلاکت کا حوالہ دیا، جن میں 20,000 بچے بھی شامل ہیں، اور 60 فیصد گھروں کی تباہی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسرائیل کو 30 اسلحہ برآمدی لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں۔ ملی بینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیرات میں مدد کرنے والی کمپنیوں پر پابندیاں لگانے اور اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا بھی عہد کیا۔ اس کے جواب میں، انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برطانوی پابندیوں کا خیرمقدم کیا لیکن برطانیہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تمام فوجی تعاون روکنے سمیت مزید اقدامات کرے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے درآمد شدہ اشیاء پر برطانیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی دارالعوام میں خطاب کرتے ہوئے، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ اب ناانصافی پر محض 'آواز اٹھانے' تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ اب 'عملی اقدام' کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ برطانیہ سمجھتا ہے کہ وہاں فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ پابندیاں ان کمپنیوں کو بھی نشانہ بنائیں گی جو بستیوں کی تعمیر میں مدد کرتی ہیں۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اعلان کیا کہ فرانس دیگر 11 ممالک کے ساتھ مل کر بستیوں کے ساتھ اپنی تجارت ختم کر رہا ہے۔ انہوں نے مغربی کنارے کی کشیدہ صورتحال، بستیوں میں تیزی سے توسیع اور انتہا پسند آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد میں اضافے کا حوالہ دیا۔

اتحاد میں شامل دیگر ممالک آئس لینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال اور سویڈن ہیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، پابندیوں کے نفاذ کا طریقہ کار اور وقت ابھی طے ہونا باقی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان 6 ارب پاؤنڈ کی سالانہ تجارت پر اس کا اثر معمولی ہو سکتا ہے، کیونکہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بستیوں کی مصنوعات اور اسرائیل کے اندر بنی مصنوعات میں فرق کیسے کیا جائے گا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Business Recorder

Pakistan welcomes UK ban on illegal Israeli settlement goods

Pakistan on Wednesday welcomed the United Kingdom’s decision to ban items originating from illegal Israeli settlements in the Occupied West Bank, the Ministry of Foreign Affairs said in a statement. The Foreign Office said the continued expansion of

Nawai Waqt

مقبوضہ مغربی کنارہ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا سمیت 12 ملکوں نے غیرقانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی لگا دی

لندن (نوائے وقت رپورٹ) برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت دنیا کے 12 ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے یا ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

Responses

>