افغان خواتین کو حقوق کے گہرے بحران کا سامنا

0:000:00

ایک نظر میں

  • ایک برطانوی جریدے نے افغان طالبان پر خواتین کے خلاف ریاستی پالیسی کے طور پر جنسی امتیاز نافذ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
  • 2021 سے لڑکیوں کی چھٹی جماعت سے آگے کی تعلیم پر پابندی ہے اور خواتین کے کام کرنے کے حق کو شدید طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔
  • اقوام متحدہ نے تربیت یافتہ پیشہ ور خواتین کی کمی کے بچوں کی تعلیم اور صحت پر مضر اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

ایک برطانوی جریدے 'دی نیو ورلڈ' نے افغان طالبان حکومت پر ریاستی پالیسی کے طور پر جنسی امتیاز نافذ کرنے کا الزام لگایا ہے، جس نے افغانستان کو خواتین کے لیے ایک جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ 2021 سے لڑکیوں کی چھٹی جماعت سے آگے کی تعلیم پر پابندی ہے، اور خواتین کے کام کرنے کے حق کو شدید طور پر محدود کر دیا گیا ہے، جس سے سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی نمائندگی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اقوام متحدہ نے تربیت یافتہ پیشہ ور خواتین کی اس کمی کے بچوں کی تعلیم اور صحت پر مضر اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

ایک برطانوی جریدے 'دی نیو ورلڈ' نے افغان طالبان حکومت پر افغان خواتین کے خلاف ریاستی پالیسی کے طور پر جنسی امتیاز نافذ کرنے کا الزام لگایا ہے، جس سے حقوق کا بحران گہرا ہو گیا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Bol News - Youtube
Dawn News - Youtube

Responses

>