مرکزی خبر پر جائیں

پریس کانفرنس کے دوران روسٹرم گرنے پر ایم کیو ایم کی پیپلز پارٹی حکومت پر تنقید

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: پریس کانفرنس کے دوران روسٹرم گرنے پر ایم کیو ایم کی پیپلز پارٹی حکومت پر تنقید
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • 4 ستمبر کو سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم رہنما علی خورشیدی کے نیچے روسٹرم گر گیا۔
  • خورشیدی نے مذاق میں کہا کہ حکومت بھی اسی طرح گرے گی۔
  • ایم کیو ایم نے اس واقعے پر پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اب تک کی صورتحال

4 ستمبر کو سندھ اسمبلی میں اس وقت ایک روسٹرم گر گیا جب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی میڈیا سے خطاب کر رہے تھے۔ خورشیدی محفوظ رہے اور انہوں نے مذاق میں کہا کہ حکومت بھی اسی طرح گرے گی۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی بنی، جس کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے پی پی پی کی زیر قیادت صوبائی حکومت پر تنقید کی گئی۔

تازہ ترین پیش رفت

روسٹرم گرنے کے واقعے کے بعد، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں نے مبینہ طور پر اسمبلی کی عمارت کی حالت پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

اس واقعے کے بعد، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں نے مبینہ طور پر اسمبلی کی عمارت کی حالت پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

روسٹرم گرنے کے بعد، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما علی خورشیدی نے خود مبینہ طور پر مذاق کیا کہ حکومت بھی اسی طرح گر جائے گی۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اس تبصرے سے حاضرین میں قہقہے گونج اٹھے۔

مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق واقعے کے وقت خطاب کرنے والے اسپیکر ایم کیو ایم کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی تھے۔ پریس کانفرنس سندھ اسمبلی کی عمارت کے اندر ہو رہی تھی۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>