امریکی میڈیا: ایرانی حملوں میں مبینہ روسی کردار کی تحقیقات شروع
اب تک کی صورتحال
ایرانی پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی افواج پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جس میں ایک میزائل دفاعی ریڈار اور ایک F-15 جیٹ کی تباہی شامل ہے، اور بحرین میں ایمیزون کے انفراسٹرکچر ٹھیکیداروں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اردن میں "کچھ نقصان" کا اعتراف کیا۔ ایران نے امریکی اڈوں پر مسلسل حملوں کا بھی دعویٰ کیا، جس میں ہتھیاروں کے ڈپو اور لاجسٹکس کے سامان کو نشانہ بنایا گیا۔ اب، امریکی میڈیا سی آئی اے کی تنصیبات پر ایرانی حملوں میں مبینہ روسی کردار کی تحقیقات کی اطلاع دے رہا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی آئی اے کی تنصیبات پر ایرانی حملوں میں مبینہ روسی کردار کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی آئی اے کی تنصیبات پر ایرانی حملوں میں مبینہ روسی کردار کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ایران نے خطے میں امریکی اڈوں پر مسلسل حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسلحہ کے گوداموں اور لاجسٹک آلات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایران کے پاسداران انقلاب کے پہلے کے دعووں کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اردن میں امریکی افواج اور بحرین میں ایمیزون کے انفراسٹرکچر ٹھیکیداروں پر حملوں کا ذکر تھا۔
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں ایک فضائی حملے سے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو نقصان پہنچا ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے اپنی کارروائیوں کے حصے کے طور پر اردن میں ایک امریکی F-15 لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بحرین، کویت اور اردن پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
Responses