مرکزی خبر پر جائیں

ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، لارک جزیرے پر نئے حملوں کی اطلاعات

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، لارک جزیرے پر نئے حملوں کی اطلاعات
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے امریکی MQ-9 ریپر ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • مبینہ طور پر ڈرون کی مالیت 30 ملین ڈالر تھی۔
  • یہ واقعہ آبنائے ہرمز میں لارک جزیرے پر حملوں کی اطلاعات کے دوران پیش آیا۔

اب تک کی صورتحال

آبنائے ہرمز میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب (IRGC) نے ایک امریکی فوجی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ ڈرون کی شناخت MQ-9 ریپر کے طور پر ہوئی ہے، جس کی مالیت مبینہ طور پر 30 ملین ڈالر ہے۔ پیر کو پیش آنے والا یہ واقعہ اس سے قبل امریکی فضائی حملوں کے بعد ہوا ہے جنہیں امریکی حکام نے لارک جزیرے پر ایرانی میزائل لانچ سائٹس قرار دیا تھا۔ IRGC کے ایک ترجمان نے پہلے ہی امریکہ کو ان حملوں کے نتائج سے خبردار کیا تھا۔ ڈرون گرانے کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کے دعوے کے بعد جزیرہ لارک پر نئے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ڈرون کی شناخت MQ-9 ریپر کے طور پر کی گئی ہے جس کی مالیت تقریباً 30 ملین ڈالر ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کے دعوے کے بعد آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ لارک پر نئے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں دی گئی معلومات کے مطابق، گرائے گئے ڈرون کی شناخت MQ-9 ریپر کے نام سے ہوئی ہے اور اس کی مالیت تقریباً 30 ملین ڈالر تھی۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>