امریکہ-ایران کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً ٹھپ
ایک نظر میں
- ایران نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک علاقے کے حوالے سے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔
- دستیاب رپورٹس میں اس پیش رفت کے سلسلے میں "ایرانی خفیہ دستاویزات کے انکشاف" کا ذکر کیا گیا ہے۔
- امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
مرکزی خبر
ایران نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک علاقے کے حوالے سے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔ دستیاب رپورٹس میں اس پیش رفت کے سلسلے میں “ایرانی خفیہ دستاویزات کے انکشاف” کا ذکر کیا گیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
ذرائع: ARY News
ایران کی پاسداران انقلاب بحریہ نے جمعرات کو کہا کہ ایران پر امریکی حملے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو دوبارہ منظم کرنے میں مداخلت اس اہم آبی گزرگاہ کو بتدریج دوبارہ کھولنے میں خلل ڈال رہی ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کے مفادات کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ ایران کی نگرانی میں ٹرانزٹ کی صلاحیت گزشتہ دو ہفتوں میں جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 50 فیصد تک بحال ہو گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرانزٹ کی صلاحیت صرف ان جہازوں کے لیے بڑھائی جا رہی ہے جنہیں ایران کی طرف سے مقرر کردہ راستوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کی مزید کسی بھی مداخلت کا “کرارا جواب” دیا جائے گا۔
ذرائع: Business Recorder
9 جولائی 2026 کو آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت امریکی فضائی حملوں کی تجدید اور تہران کی خلیج میں جوابی کارروائی کے بعد تقریباً بند ہو گئی۔ ابتدائی گھنٹوں میں صرف دو ٹینکر، برگ 1 اور ویل سیل، آبنائے سے گزرے۔ شپنگ انڈسٹری کے ذرائع نے بتایا کہ جہاز تیزی سے اپنے پبلک AIS ٹریکنگ ٹرانسپونڈرز بند کر رہے ہیں۔ اس تازہ کشیدگی نے امریکہ اور ایران کے درمیان تین ہفتے پرانی جنگ بندی کو متاثر کیا ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے ایران کے جنوبی ساحلی اور مشرقی صوبوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی ہمسایہ ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ ایران کی پاسداران انقلاب بحریہ نے خبردار کیا کہ امریکہ کی مزید کسی بھی مداخلت کا “کرارا جواب” دیا جائے گا۔ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ سنبھالتا تھا۔
ذرائع: Business Recorder Such News
جے ڈی وینس نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 9 جولائی 2026 کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اس اہم آبی گزرگاہ کے بارے میں ایک اعلان کیا ہے۔
ذرائع: Dawn News Dunya News
امریکی نائب صدر نے ایران کو دھمکیاں جاری کی ہیں، جبکہ جے ڈی وینس نے بھی ایک سخت انتباہ دیا ہے۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کے لیے امریکہ کا پیغام مزید سخت ہو رہا ہے۔
ذرائع: GNN Express News
آبنائے ہرمز کے گرد بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ 9 جولائی 2026 کو، جے ڈی وینس نے آبنائے ہرمز کے ممکنہ بند ہونے کے حوالے سے انتباہ جاری کیا۔
پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔
ذرائع: Capital TV Suno News 24 News HD
9 جولائی 2026 کو امریکہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے فوجی ردعمل کی دھمکی دی۔ امریکہ نے ایران کو آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے بارے میں خبردار کیا۔
پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔
ذرائع: Capital TV Dunya News
ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی نئے حملے کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ تجزیہ کار رضا رومی نے کہا ہے کہ ایران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آبنائے اس کی رضامندی کے بغیر نہیں کھلے گی۔
ذرائع: Samaa TV Dunya News
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک کنٹرول سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ یہ بیان آبنائے کے حوالے سے ایران کے پہلے کے بڑے دعوے کی نوعیت کو واضح کرتا ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Latest Activity


Responses