ایران-امریکہ کشیدگی: جنگی فنڈنگ کا بحران گہرا، حوثی تنازع میں شامل
ایک نظر میں
- ایران کی فوج نے اپنے جوہری ٹھکانوں پر حملوں کے خلاف خبردار کیا ہے۔
- ایران کے ساتھ ممکنہ تنازع کے لیے امریکی جنگی فنڈنگ کا بحران گہرا ہو گیا ہے۔
- حوثی مبینہ طور پر علاقائی کشیدگی کے درمیان ایران کے تنازع میں شامل ہو گئے ہیں۔
اب تک کی صورتحال
ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی جوہری ٹھکانوں پر حملہ کیا گیا تو وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنائے گی، یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان ریمارکس کے بعد آیا ہے، جنہوں نے اشارہ دیا تھا کہ امریکہ ایران کے "پکیکس ماؤنٹین ایریا" اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بارے میں ریمارکس کے بعد آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس مبینہ طور پر ممکنہ جنگ کے لیے اربوں ڈالر کی تلاش میں ہے، اور امریکی وزیر دفاع بھی اضافی فنڈز مانگ رہے ہیں۔ اب اطلاعات ہیں کہ جنگی فنڈنگ کا بحران گہرا ہو گیا ہے۔ ان کشیدگیوں کے درمیان، سعودی عرب نے حوثیوں کی ناکہ بندی کی مذمت کی ہے، اور کویت، اردن اور بحرین نے شدید بمباری کی اطلاع دی ہے۔ حوثی مبینہ طور پر ایران کے تنازع میں شامل ہو گئے ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت
ایران کے ساتھ ممکنہ امریکی تنازع کے لیے جنگی فنڈنگ کا بحران مبینہ طور پر گہرا ہو گیا ہے، اور حوثی بھی ایران کے تنازع میں شامل ہو گئے ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
اطلاعات کے مطابق ایران کے ساتھ ممکنہ تنازع کے لیے جنگی فنڈنگ کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ مزید برآں، حوثی مبینہ طور پر ایران کے تنازع میں شامل ہو گئے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لیے کانگریس سے اضافی فنڈز طلب کر رہے ہیں۔
Responses