اعلیٰ امریکی حکام کا ایران پر کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ اجلاس، رپورٹس
ایک نظر میں
- اطلاعات کے مطابق اعلیٰ امریکی حکام نے ایران سے متعلق مستقبل کے اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں ایک خفیہ اجلاس منعقد کیا۔
- اجلاس کی صدارت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی اور اس میں اہم سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے عہدیدار شامل تھے۔
- صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ تنازع 'آسان طریقے یا مشکل طریقے' سے حل کیا جا سکتا ہے۔
اب تک کی صورتحال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی اقدامات نے ایران کو کمزور کر دیا ہے اور اس نے اپنے جوہری عزائم ترک کر دیے ہیں، اس دعوے کی ایران تردید کرتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایک فیصلہ کرنا ہے اور یہ تنازع معاہدے یا فوجی کارروائی کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے۔ ایرانی حکام نے کسی بھی مزید امریکی حملے پر سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر حکام، بشمول نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو، نے جمعہ کو کیمپ ڈیوڈ میں ایران سے متعلق مستقبل کے اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک خفیہ اجلاس منعقد کیا۔
تازہ ترین اپڈیٹس
امریکی نیوز آؤٹ لیٹ 'ایگزیوس' کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے جمعہ کو کیمپ ڈیوڈ صدارتی ریسورٹ میں ایران اور یمن میں تنازع سے متعلق مستقبل کے اقدامات پر غور کرنے کے لیے ایک خفیہ اجلاس منعقد کیا۔
باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس کی صدارت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی۔ شرکاء میں مبینہ طور پر وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ، وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان رٹکلف، اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین شامل تھے۔
ایگزیوس نے نوٹ کیا کہ اسی طرح کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس جون 2025 میں، اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے چند روز قبل ہوا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس اجلاس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کو جوہری بم حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے تمام منصوبے ترک کر دیے: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے اپنے تمام منصوبے عملی طور پر ترک کر دیے ہیں۔
ایران اپنے لیے مشکل یا آسان راستہ اختیار کر سکتا ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع مشکل راستے یا آسان راستے سے حل ہو سکتا ہے۔
Responses