ایران میں غیر قانونی راستے پر 12 پاکستانی اغوا
ایک نظر میں
- ایران میں 12 پاکستانی مبینہ طور پر اغوا۔
- غیر قانونی ہجرت کے راستے پر اغوا کیے گئے۔
- ایجنٹ نے مبینہ طور پر ان کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کیا۔
اب تک کی صورتحال
بارہ پاکستانی شہری، جن میں لاہور سے سات اور دیگر علاقوں سے چار شامل ہیں، مبینہ طور پر ایران میں اغوا کر لیے گئے ہیں۔ یہ افراد غیر قانونی ہجرت کے راستے، جسے عام طور پر "ڈنکی روٹ" کہا جاتا ہے، کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ عامر نامی ایک ایجنٹ، جو مبینہ طور پر ترکی میں رہتا ہے، نے انہیں ورغلایا تھا۔
تازہ ترین پیش رفت
اطلاعات کے مطابق، ایران میں غیر قانونی ہجرت کے راستے سے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے 12 پاکستانی اغوا کر لیے گئے ہیں، اور ایک ایجنٹ مبینہ طور پر ان کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کر رہا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
اطلاعات کے مطابق، ایران میں 12 پاکستانی، جن میں لاہور سے سات اور دیگر علاقوں سے چار شامل ہیں، اغوا کر لیے گئے ہیں۔ یہ افراد غیر قانونی راستے، جسے اکثر "ڈنکی روٹ" کہا جاتا ہے، کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں عامر نامی ایک ایجنٹ نے ورغلایا تھا، جو مبینہ طور پر ترکی میں مقیم ہے۔ ایجنٹ نے ابتدائی طور پر اہل خانہ کو بتایا تھا کہ افراد بحفاظت پہنچ گئے ہیں لیکن بعد میں ان کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کیا۔ اہل خانہ کو بتایا گیا تھا کہ افراد کو ترکی میں داخل ہونا تھا۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، 12 پاکستانی نوجوان، جو ایران پہنچنے کے بعد مبینہ طور پر اغوا ہوئے تھے، اب ترکی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
Responses