امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کی، نو گھنٹے کی بمباری کی اطلاع
ایک نظر میں
- امریکی فوج نے 16 جولائی 2026 کو ایران کے خلاف فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جس میں مبینہ طور پر نو گھنٹے کی بمباری شامل تھی۔
- پچھلے امریکی حملوں میں ایران کے کئی شہروں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں چابہار اور بندر عباس شامل ہیں۔
- ایرانی فوج نے بدھ کو ایک میزائل حملے میں سات فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔
اب تک کی صورتحال
امریکہ نے ایران کے کئی شہروں میں فوجی حملے کیے ہیں، ایرانی میڈیا کے مطابق چابہار اور بندر عباس میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ہرمزگان، بندر عباس، چابہار، قشم جزیرہ اور انمیشک سمیت علاقوں میں دھماکوں کی اطلاع ملی۔ امریکی میزائل مبینہ طور پر پانی اور بجلی کی تنصیبات کے قریب گرے، اور ایک امریکی پروجیکٹائل کی وجہ سے قشم جزیرے پر دھماکہ ہوا۔
تازہ ترین پیش رفت
16 جولائی 2026 کو، امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جس میں نو گھنٹے کی بمباری کی اطلاعات ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
16 جولائی 2026 کو ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر میں مبینہ طور پر نو گھنٹے کی بمباری شامل تھی۔
16 جولائی 2026 کو، امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی۔
امریکہ نے بدھ کو ایران کے خلاف حملوں کی ایک لہر شروع کی، جس میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر حملہ کرنے کے لیے ایرانی افواج کی استعمال کردہ فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی تھیں۔ یہ کارروائی واشنگٹن کی جانب سے بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد کی گئی۔ CENTCOM نے اب ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کی تکمیل کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی فوج نے اطلاع دی ہے کہ بدھ کو ملک کے جنوب مشرقی حصے میں امریکی حملوں میں سات ایرانی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ اہلکار ایران شہر کے قریب ایک بیرک پر میزائل حملے میں ہلاک ہوئے۔
Responses