پاکستان کا امریکہ-ایران کشیدگی کے تناظر میں سفارت کاری پر زور
ایک نظر میں
- امریکہ-ایران کشیدگی میں مبینہ طور پر اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر پاکستان نے سفارت کاری پر زور دیا ہے۔
- پاکستان کے اقوام متحدہ کے سفیر عاصم افتخار نے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔
- اطلاعات میں ایران پر امریکی پابندی کا بھی ذکر ہے۔
تازہ ترین پیش رفت: ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے امن معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے، جس کی وجہ امریکی خلاف ورزیوں اور فوجی کارروائیوں کا تسلسل ہے۔
مرکزی خبر
امریکہ-ایران کشیدگی میں مبینہ طور پر اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر پاکستان نے سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ پاکستان کے اقوام متحدہ کے سفیر عاصم افتخار نے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔ اطلاعات میں ایران پر امریکی پابندی کا بھی ذکر ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے امن معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے، جس کی وجہ امریکی خلاف ورزیوں اور فوجی کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ سرکاری ٹی وی نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ تہران کے اقوام متحدہ کے سفیر نے جمعہ کو نیویارک میں کہا کہ اگر امریکہ اسلام آباد انڈرسٹینڈنگ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے تو ایران خود کو اس کے وعدوں کا پابند نہیں سمجھے گا۔
ایران-امریکہ معاہدے سے قبل اپریل میں جنگ بندی ہوئی تھی، لیکن حالیہ دنوں میں دونوں فریقوں نے آبنائے ہرمز پر شدید فائرنگ کا تبادلہ کیا ہے۔ ان تبادلوں کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی۔ ایرانی اقوام متحدہ کے نمائندے امیر سعید ایروانی نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملے شروع کرکے اور جاری رکھ کر اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران نے یادداشت مفاہمت پر اپنے عزم کا اعادہ کیا، بشرطیکہ امریکہ اپنی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کرے۔
ذرائع: Business Recorder Dunya News





Responses