امریکہ-ایران کشیدگی، حملوں کی اطلاعات کے درمیان برقرار

0:000:00

ایک نظر میں

  • رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران پر ممکنہ فوجی حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔
  • ایران نے جوابی میزائل حملوں کی سخت وارننگ جاری کی ہے۔
  • توانائی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے منصوبوں پر کشیدگی عروج پر ہے۔

اب تک کی صورتحال

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی حملوں کا حکم دیا ہے، جس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران پر اشتعال انگیز کارروائیوں اور بے ایمانی کا الزام لگایا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سخت فوجی کارروائیوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ جواب میں، ایران نے اسرائیل، خلیجی ممالک اور امریکہ کو سخت وارننگ جاری کی ہے، جوابی میزائل حملوں کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ "توانائی کے مقامات پر حملوں کے نتائج ہوں گے۔" امریکہ نے ایران کی سب سے بڑی ایئر لائن پر بھی نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے منصوبے کے بارے میں بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں، اور صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ 'بحریہ، فضائیہ اور زمینی فوج تباہ ہو گئی'۔

تازہ ترین پیش رفت

ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملے کی جاری اطلاعات کے درمیان عالمی کشیدگی بدستور بلند ہے، تہران کے ممکنہ جوابی کارروائیوں کی تیاریوں میں مصروف ہونے کا امکان ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

ایرانی جوہری تنصیبات پر منصوبہ بند حملے کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملوں کے بارے میں ایک اہم اعلان کیا ہے۔

ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو ایک مخصوص وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 'توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے نتائج ہوں گے۔' علیحدہ طور پر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ 'بحریہ، فضائیہ اور زمینی فوج تباہ ہو گئی۔'

ایک نئی پیش رفت میں، امریکہ نے ایران کی سب سے بڑی ایئر لائن پر تازہ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران نے خلیجی ممالک، امریکہ اور اسرائیل کو ممکنہ جوابی میزائل حملوں کی وارننگ جاری کی ہے، جس سے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر فوج کو ایران پر تازہ حملوں کا حکم دے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایران کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان متوقع حملوں کے کئی روز تک جاری رہنے کی امید ہے، جس کا مقصد ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔

اس سے قبل، صدر ٹرمپ نے کابینہ کے اجلاس کے دوران اشارہ دیا تھا کہ ایرانی اقدامات اشتعال انگیز ہیں، اور ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکان پر ان کا اعتماد کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایران پر بے ایمانی، وعدے توڑنے اور غلط بیانی کا الزام لگایا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سخت فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ ایسے حملے ایران کے اندر قدامت پسند عناصر کو بتدریج کمزور کر دیں گے۔

دریں اثنا، ایران نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسرائیل کو سخت وارننگ جاری کی ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Suno News - Youtube
GNN - Youtube

Responses

>