ٹرمپ کا ‘ایران کے ساتھ جنگ ختم’ ہونے کا اعلان، مذاکرات کے لیے تیار
ایک نظر میں
- امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
- ایرانی صدر نے پہلے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو 'بے معنی' قرار دیا تھا۔
- ٹرمپ نے ایک ریلی میں کہا کہ 'ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو چکی ہے'۔
اب تک کی صورتحال
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جاری ہے اور دونوں رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو "مکمل طور پر بے معنی" قرار دیتے ہوئے امریکہ پر ماضی کے معاہدوں کو توڑنے کا الزام لگایا۔ اس کے برعکس، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ نیبراسکا میں ایک حالیہ ریلی میں، ٹرمپ نے مزید آگے بڑھتے ہوئے اعلان کیا کہ "ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو چکی ہے" اور امریکی شہروں کو مبینہ دھمکیوں پر تہران پر طنز کیا۔ دونوں فریقوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت موقف اپنایا ہوا ہے، ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے جبکہ پزشکیان نے اس کی پرامن نوعیت پر اصرار کیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
نیبراسکا میں ایک ریلی میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ "ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو چکی ہے" اور امریکی شہروں کو دھمکیوں پر تہران پر طنز کیا۔ انہوں نے براہ راست مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکی پیٹرول کی قیمتیں جلد ہی دو ڈالر فی گیلن سے کم ہو جائیں گی۔
Responses
تازہ ترین فیکٹ چیکس
ایران سے براہِ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں؛ڈونلڈٹرمپ
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے کہاہے کہ ایران سے براہِ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔
امریکا مذاکرات نہیں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے: صدر مسعود پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران امریکا پر قطعی اعتماد نہیں کرسکتا۔
There’s a fundamental disconnect in how each side views the history of their negotiations. When trust is this low, what mechanisms can help verify commitments and build confidence for future talks?
Diplomatic deadlock ka matlab aksar ye hota hai ke aam logon ke liye economic relief ke imkanaat kam ho jatay hain. Ye ek afsosnaak surat-e-haal hai.