پانچ ماہ کے ایرانی تنازعے کے بعد امریکی میزائل ذخائر میں کمی کی اطلاعات

0:000:00

ایک نظر میں

  • امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 5 ماہ کے تنازعے کے بعد امریکی میزائل ذخائر ختم ہو گئے ہیں۔
  • یہ تنازعہ امریکی ابتدائی اندازوں سے زیادہ طویل ہو گیا ہے۔
  • تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی مقاصد کے لیے مخصوص گولہ بارود کم ہوا ہے، پورا اسلحہ نہیں۔

اب تک کی صورتحال

ایران کے ساتھ پانچ ماہ کے تنازعے کے بعد، امریکی میڈیا ذرائع سے ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں امریکی میزائل اور گولہ بارود کے ذخائر میں نمایاں کمی کا اشارہ دیا گیا ہے۔ تنازعے کا دورانیہ امریکی ابتدائی توقعات سے تجاوز کر گیا ہے۔ اگرچہ تجزیہ کار واضح کرتے ہیں کہ اس کا مطلب امریکی اسلحے کا مکمل خاتمہ نہیں ہے، لیکن یہ اس کے فوجی مقاصد کے لیے درکار مخصوص گولہ بارود کے بھاری استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایران سے ایسی کسی کمی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ پانچ ماہ کے تنازعے کے دوران امریکی میزائل اور گولہ بارود کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو اس مصروفیت کے ابتدائی تخمینوں سے کہیں زیادہ ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

امریکی میڈیا میں گردش کرنے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ پانچ ماہ کے تنازعے کے بعد امریکہ کے فوجی ذخائر، خاص طور پر میزائلوں اور گولہ بارود میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

ان رپورٹس کے مطابق، طویل مصروفیت نے امریکی فوجی وسائل پر کافی اثر ڈالا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تنازعہ امریکی ابتدائی تخمینوں سے کہیں زیادہ طویل ہو گیا ہے، جس کا کچھ حکام نے اندازہ لگایا تھا کہ یہ تقریباً چار سے پانچ ہفتوں پر محیط ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ نے اپنا تمام اسلحہ ختم نہیں کیا ہے، لیکن تنازعے میں اپنے فوجی مقاصد حاصل کرنے کے لیے درکار مخصوص قسم کے گولہ بارود کا بہت زیادہ استعمال ہوا ہے۔ اس کے برعکس، ایرانی পক্ষ سے گولہ بارود یا سازوسامان کی کمی کی کوئی ایسی ہی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ذخائر میں کمی کے دعوؤں کو کچھ مبصرین جنگ بندی کے حصول میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی ممکنہ وجہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان معلومات کی امریکی حکام نے باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

پاکستان نیوز مزید مصدقہ تفصیلات دستیاب ہونے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

ARY News - Youtube
GNN - Youtube

Responses

>