ایران نے یمن تنازع پر امریکی افواج کو خطے سے نکل جانے کی وارننگ دے دی
ایک نظر میں
- ایران نے یمن کی انصار اللہ سے متعلق امریکی الزامات مسترد کر دیے۔
- ایرانی عہدیدار ابراہیم عزیزی نے امریکی افواج کو خطے سے نکل جانے کی وارننگ دی ہے۔
- تہران کا مؤقف ہے کہ انصار اللہ ایک خود مختار یمنی تنظیم ہے۔
اب تک کی صورتحال
ایران نے یمن کی انصار اللہ سے متعلق امریکہ کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، اور تہران نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ یہ گروپ ایک خود مختار ادارہ ہے جو کسی کے پراکسی کے طور پر کام نہیں کر رہا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پہلے کہا تھا کہ امریکی فوجی مداخلت علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ ایرانی عہدیدار ابراہیم عزیزی کی جانب سے ایک نئی وارننگ کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جنہوں نے امریکی افواج سے خطے سے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ایرانی عہدیدار ابراہیم عزیزی نے یمن کی انصار اللہ سے متعلق امریکی الزامات کے بعد کشیدگی میں اضافہ کرتے ہوئے امریکی افواج کو خطے سے نکل جانے کی وارننگ دی ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ایک متعلقہ پیشرفت میں، ایرانی عہدیدار ابراہیم عزیزی نے امریکہ کو ایک انتباہ جاری کیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس کی افواج خطے سے نکل جائیں۔
ذرائع اور اپڈیٹس
خطے میں عدم استحکام کی جڑ امریکی فوجی مداخلت اور حاکمانہ پالیسیاں ہیں:اسماعیل بقائی
ایران نے یمن کی انصار اللہ سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے الزامات مسترد کردیے۔
امریکا حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو خطے میں عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرے: ایران نے واضح کردیا
ایران کاکہنا ہے کہ امریکا حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو خطے میں عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرے۔
ایران کا امریکا سے خطے میں امن کیلئے عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ
ایران نے یمن کی انصار اللہ سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے الزامات مسترد کردیے۔
Responses