افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت میں توسیع کے ساتھ نیا مسلح گروپ سامنے آیا

0:000:00

ایک نظر میں

  • صوبہ فریاب میں 'لبریشن فرنٹ' نامی ایک نئے مسلح گروپ کا اعلان کیا گیا ہے۔
  • اس گروپ کی قیادت گل محمد پہلوان کر رہے ہیں اور اس نے طالبان فورسز پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • بدخشاں، بغلان اور غور صوبوں میں بھی مزاحمتی سرگرمیوں کی اطلاعات ہیں۔

اب تک کی صورتحال

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح اپوزیشن مبینہ طور پر بڑھ رہی ہے، جس میں اب متعدد گروپ سرگرم ہیں۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور افغانستان فریڈم فرنٹ جیسی موجودہ تنظیموں کے ساتھ ساتھ، صوبہ فریاب میں لبریشن فرنٹ نامی ایک نیا گروپ سامنے آیا ہے۔ ان گروپوں نے مسلح مزاحمت کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا ہے، اور کئی شمالی صوبوں بشمول فریاب، بدخشاں اور بغلان میں طالبان فورسز پر حملوں کی اطلاعات ہیں، جو ایک شدید ہوتے ہوئے تنازع کی نشاندہی کرتا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

افغانستان کے صوبہ فریاب میں گل محمد پہلوان کی قیادت میں ایک نئے مسلح گروپ 'لبریشن فرنٹ' کا اعلان کیا گیا ہے، جو طالبان کے خلاف منظم مزاحمت میں توسیع کا اشارہ ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

افغانستان کے صوبہ فریاب میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمت میں توسیع کرتے ہوئے ایک نئے مسلح گروپ 'لبریشن فرنٹ' کا اعلان کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس گروپ کی قیادت گل محمد پہلوان کر رہے ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق، لبریشن فرنٹ سے توقع ہے کہ وہ جلد ہی ایک باقاعدہ اعلامیہ جاری کرے گا، جس میں اس کی تنظیمی ساخت اور منصوبہ بند سرگرمیوں کی تفصیلات ہوں گی۔ گروپ نے پیر کو فریاب میں طالبان فورسز پر حملے کی ذمہ داری پہلے ہی قبول کر لی ہے۔

یہ پیشرفت دیگر قائم شدہ طالبان مخالف محاذوں کی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی ہے۔ جنرل سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور جنرل یاسین ضیاء کی سربراہی میں افغانستان فریڈم فرنٹ نے پہلے ہی مسلح مزاحمت کو تیز کرنے کے اپنے ارادوں کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹس کئی صوبوں میں طالبان فورسز کے خلاف حملوں میں حالیہ اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ بغلان کے ضلع دوشی، بدخشاں کی مختلف چوکیوں اور صوبہ غور میں واقعات نوٹ کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ فریاب میں بھی جھڑپ ہوئی ہے۔ مزاحمت شمالی افغانستان میں سب سے زیادہ فعال دکھائی دیتی ہے، جس میں بدخشاں کے ضلع یافتل زیبا اور ارگو میں آپریشنز کا ذکر ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ بڑھتی ہوئی مزاحمت طالبان کی حکمرانی، بشمول انسانی حقوق، تعلیم اور روزگار پر پابندیوں پر عوامی عدم اطمینان کی وجہ سے ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Geo News - Youtube
Dawn News - Youtube

Responses

>