یمنی حوثی ترجمان کا سعودی بحری ناکہ بندی کا دعویٰ
0:00 / 0:00
ایک نظر میں
- یمنی حوثی ترجمان نے سعودی بحری ناکہ بندی کے حوالے سے ایک دعویٰ کیا۔
- سعودی عرب اور 14 ممالک نے مشترکہ بحری فورس تشکیل دی ہے۔
- حوثیوں نے پہلے سعودی عرب کے خلاف بحیرہ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔
اب تک کی صورتحال
سعودی عرب اور پاکستان سمیت 14 علاقائی ممالک نے بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں سمندری ٹریفک کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ بحری فورس تشکیل دی ہے۔ یہ پیش رفت حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان اور ڈرون حملوں کی اطلاعات کے درمیان ہوئی ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ نے عراق میں مشترکہ فضائی حملے کیے ہیں۔ اب ایک یمنی حوثی ترجمان نے سعودی بحری ناکہ بندی کے حوالے سے ایک دعویٰ کیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ایک حالیہ پیش رفت میں، ایک یمنی حوثی ترجمان نے سعودی بحری ناکہ بندی کے حوالے سے ایک دعویٰ کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ایک یمنی حوثی ترجمان نے سعودی بحری ناکہ بندی کے حوالے سے ایک دعویٰ کیا ہے۔
حوثی باغیوں نے ایک وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ احمر میں بننے والے کسی بھی فوجی اتحاد کے سنگین نتائج ہوں گے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Dawn News - Youtube
ARY News - Youtube
Responses