مرکزی خبر پر جائیں

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیول فارمز اور سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022 کا فیصلہ کالعدم کر دیا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیول فارمز اور سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022 کا فیصلہ کالعدم کر دیا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیول فارمز اور سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے والا 2022 کا فیصلہ کالعدم کر دیا۔
  • ڈویژن بینچ نے سیلنگ کلب کو مسمار کرنے کا حکم کالعدم کر دیا ہے۔
  • سابق نیول چیف ایڈمرل (ر) عباسی کے خلاف فوجداری کارروائی بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔

اب تک کی صورتحال

2022 میں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک سنگل بینچ نے، جس کی سربراہی اس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کر رہے تھے، پاکستان نیول فارمز اور راول جھیل کے کنارے نیوی سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ فیصلے میں کلب کو مسمار کرنے اور ایک سابق نیول چیف کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ وزارت دفاع اور دیگر متاثرہ فریقین نے بعد میں اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کی تھیں۔

تازہ ترین پیش رفت

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے 2022 کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں پاکستان نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے کلب کو مسمار کرنے اور سابق نیول چیف ایڈمرل (ر) ظفر محمود عباسی کے خلاف فوجداری کارروائی کے احکامات کو کالعدم کر دیا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>